تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 260
تاریخ احمدیت۔جلد 25 260 سال 1969ء تبلیغی مرکز تھے۔ملاقاتوں کے ذریعہ بھی پیغام حق پہنچاتے اور کتابیں منگوا کر لوگوں میں تقسیم کرتے رہتے تھے۔حاجی اونکو اسماعیل بن عبدالرحمن صاحب (وفات: جولائی ۱۹۶۹ء) آپ ریاست جو ہور ملایا کے شاہی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ملائی ، انگریزی اور عربی میں خاص دسترس رکھتے تھے۔مولوی محمد صادق صاحب سماٹری مبلغ ملائیشیا کے ذریعہ احمدیت کا پیغام پہنچا اور مسلسل چار سال کی تحقیق کے بعد ۲۳ مارچ ۱۹۵۶ء کو بیعت فارم پُر کیا۔بعض لوگوں نے احمدیت کی وجہ سے تکلیف دینے اور ہتک کرنے کی کوشش کی مگر وہ کوہ وقار بن کر احمدیت پر ڈٹے رہے اور ان کی تحریک پر ان کی بہن اونکو فاطمہ اور دوسری اہلیہ سعدیہ نے بھی بیعت کر لی۔حاجی اونکو صاحب چودہ برس تک مجسٹریٹ پھر محکمہ شرعیہ جوہور کے سربراہ بعد ازاں پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین رہے اور اس دوران بیعت کا شرف حاصل کیا۔ان کا یہ تقر ر دو سال کے لئے تھا جس کے بعد انہیں فارغ کر دیا گیا۔پھر مرکزی حکومت نے دوبارہ انہیں اپنی ریاست میں مجسٹریٹ درجہ اول مقرر کر دیا۔کچھ عرصہ بعد وہ اس عہدہ سے مستعفی ہو گئے اور زندگی کے بقیہ ایام عبادت اور تبلیغ کے لئے وقف کر دیے۔کمال فولمر صاحب سوئٹزرلینڈ (وفات: اگست ۱۹۶۹ء) آپ کے والد ماجد سوئٹزر لینڈ کی یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر تھے۔آپ کو ٹریکٹروں کی ایک فرم کے نمائندہ کی حیثیت سے مسلم ممالک خصوصاً مراکش میں جانے کا موقع ملا جس سے اسلام میں دلچسپی پیدا ہوئی اور آپ نے احمد یہ مشن سوئٹزر لینڈ سے رابطہ پیدا کیا اور ۷ دسمبر ۱۹۵۹ء کو بیعت کر لی۔ان کی تحریر میں شوکت اور قلم میں روانی تھی۔ہسپانوی ، فرانسیسی اور اطالوی زبانوں کو جانتے تھے۔چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ امام مسجد محمود سوئٹزر لینڈ نے ان کی قابلیت اور دینی اور علمی شعور کی بناء پر انہیں جماعتی لٹریچر کے ترجمہ کی خدمت سپرد کی۔چنانچہ انہوں نے ہماری تعلیم ( انتخاب کشتی نوح ) اور سیرۃ النبی ع ( مؤلفہ حضرت مصلح موعود ) اور اسلامی اصول کی فلاسفی کے جرمن زبان میں بلند پایہ تراجم کئے۔ماہنامہ اسلام اور اخبارات کے لئے انہوں نے کثیر تعداد میں مضامین اور خطوط لکھے۔صلى الله