تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 15
تاریخ احمدیت۔جلد 25 15 سال 1969ء لئے 4 بجے صبح کی پہلی ٹرین میں دوبارہ بریلی سے شاہجہانپور پہنچے۔یہ جلسہ آپ کی صدارت میں دوروز یعنی ۱۷، ۱۸ ستمبر کو نہایت کامیابی سے منعقد ہوا۔جلسہ سے حضرت حافظ صاحب نے ایک پُر جوش خطاب فرمایا چنانچہ عبدالجمیل شاہجہانپوری نے رپورٹ میں لکھا:۔,, دوسرے روز بعض اصحاب کے سوالات اور نیز ان مہمانوں کی تسلی و تسکین کے لئے جو ز یر تبلیغ تھے اور بیرونجات سے بغرض شرکت جلسہ آئے تھے قیام گاہ پر استاذی المعظم حضرت حافظ صاحب کی تقریر شروع ہوئی جس کا سلسلہ طعام ونماز کے اوقات نکال کر صبح سے عصر تک جاری رہا۔اس تقریر نے علماء سوء کا وہ نقشہ آنکھوں کے سامنے کھینچ دیا۔جس سے عام تو کیا اکثر خاص اصحاب بھی واقف نہ تھے۔ابتداء سے لے کر آخر تک جن جن علماء نے جری اللہ فی حلل الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کی یا اب کر رہے ہیں۔یہ تقریران سبھی کے کوائف پر حاوی تھی۔سامعین بہت ہی محظوظ ہوئے اور جو لوگ شب کو مخالفین کے جلسہ میں جا کر ان کے اعتراضات سن آئے تھے ان کے لئے تو یہ تریاق ثابت ہوئی اور وہ ساری سمیت جو مخالفانہ تقریروں نے پیدا کی تھی اس تقریر کی رو سے مثل خس و خاشاک بہہ گئی اور اصحاب بیر و نجات میں سے ایک صاحب جو مدت سے جویائے حق تھے سلسلہ عالیہ احمد یہ میں داخل ہو گئے۔فالحمد للہ علی ذالک۔اگلے سال یہ جلسہ بارش کے سبب آپ کے وسیع مکان میں ہوا۔چنانچہ محمد عقیل قریشی صاحب سیکرٹری جلسہ ہائے ہفتہ وار انجمن احمد یہ شاہجہانپور نے لکھا کہ سالانہ جلسہ جماعت احمد یہ شاہجہانپور ۴،۱۳ استمبر ۱۹۲۶ء کو منعقد ہوا۔بارش کے سبب حافظ مختار احمد صاحب کے وسیع مکان واقع محلہ ترین میں جلسہ کا انتظام کیا گیا۔اگر چہ بارش کی وجہ سے راستے خراب تھے اور ابر محیط ہورہا تھا اور قریب ہی مخالفین نے بھی اکھاڑا جمارکھا تھا اور آنے والوں کو روکا بھی جاتا تھا۔تاہم سامعین آئے اور امید سے بڑھ کر آئے۔پیلی بھیت، امرو به ضلع مراد آباد قصبہ تکبر ، قصبہ کٹہرا ، موضع کیا ، موضع خانپور اور موضع بیضہ وغیرہ سے بھی برادران سلسلہ جلسہ کے لئے تشریف لائے تھے۔۔حضرت حافظ صاحب کا مکان (مکان کا پتہ: مکان نمبر ۱۳ /المعروف حافظ مختار میاں والا۔تار دین نکلی شاہجہانپور ) دو کمروں ، ایک ہال ، ایک برآمدہ اور باورچی خانہ وغیرہ پر مشتمل تھا اور ہمیشہ جماعتی ضروریات کے لئے وقف رہا۔جناب مولوی خورشید احمد صاحب پر بھا کرنے ۸ فروری ۱۹۵۸ء کو اپنے ایک تحریری بیان میں اطلاع دی کہ مکان میں مدت سے نمازیں ادا ہوتی آرہی ہیں اس لئے