تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 11
تاریخ احمدیت۔جلد 25 11 سال 1969ء زیارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹۶ء کا آخر اور ۱۸۹۷ء کا آغاز حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب کی زندگی میں یاد گار ا ہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس دوران آپ نے پہلی بار قادیان کی زیارت کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کے علاوہ جلسہ اعظم مذاہب لاہور میں شرکت کی۔آپ کے ایمان افروز تاثرات تاریخ احمدیت جلد دوم طبع اول کے صفحہ ۳۹۹، ۴۰۰ میں آپ ہی کے قلم سے دئے جاچکے ہیں۔آپ کا بلند پایہ شعری کلام الحکم میں پہلی بار ۲۷ مارچ ۱۸۹۸ء کو شائع ہوا جو کہ حضرت امام الزمان مسیح موعود علیہ السلام کی محبت میں تھا۔۱۹۰۵ء میں آپ نے سیکرٹری تبلیغ جماعت شاہجہانپور کی طرف سے 20 الحق کے نام سے تین تبلیغی ٹریکٹ شائع کئے بعد ازاں آپ نے ایک ٹریکٹ بھی شائع فرمایا۔۵امئی ۱۹۰۷ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی معرکہ آراء تصنیف ”حقیقۃ الوحی“ شائع فرمائی جس کے صفحہ ۱۴۸ پر منشی برہان الحق صاحب شاہجہانپوری کے خط کا تذکرہ فرمایا۔یہ خط جو کئی سوالات پر مشتمل تھا حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حافظ صاحب ہی نے بھجوایا تھا۔آپ بتایا کرتے تھے کہ حضور نے منشی صاحب موصوف کا خط ملتے ہی ان کے ایک سوال کا جواب تو بذریعہ کارڈ دے دیا اور بقیہ استفسارات کے جوابات بعد میں حقیقۃ الوحی میں زیب قرطاس کرنے کا وعدہ فرمایا۔سوال یہ تھا کہ قرآن مجید میں کوئی ترتیب نہیں ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام کے جواب کا غالبا خلاصہ یہ تھا کہ عوام ستاروں کو دیکھ کر بھی یہی خیال کرتے ہیں لیکن ہیئت دان بتاتے ہیں کہ ان میں ایسا حیرت انگیز نظام ہے کہ اگر کوئی ایک ستارہ بھی اپنی جگہ سے ہل جائے تو ساری کائنات تہ و بالا ہو جائے۔خلافت اولی میں خدمات خلافت اولیٰ کے عہد مبارک میں حضرت حافظ صاحب کی پُر جوش علمی و تبلیغی خدمات کا دائرہ پہلے سے زیادہ وسیع ہو گیا اور جماعت شاہجہانپور کی ایک ممتاز شخصیت کی حیثیت سے آپ کا وجود تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز اور آپ کا گھر احمدی مخلصین بالخصوص مرکزی علماء اور بزرگوں کی قیامگاہ بن گیا۔۱۹۱۰ ء میں حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت خلیفہ المسیح الاول کی ہدایت پر جلسہ مونگھیر میں شرکت فرمائی نیز شاہجہانپور کے ایک جلسہ عام سے بھی خطاب فرمایا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے سفر شاہجہانپوراور شاہجہانپور کی جماعت کا ذکر کرتے