تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 203 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 203

تاریخ احمدیت۔جلد 25 203 سال 1969ء اپنا پریس وغیرہ قادیان شریف نہیں لائے تھے۔ہم آٹھ دس یوم امرتسر رہے۔جلسہ قریب تھا پھر قادیان چلے آئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اُس وقت حضور انور مسجد مبارک کے پہلو کی جانب جو بیت الفکر ہے اس کے صحن میں تشریف فرما تھے۔میرے والد صاحب مرحوم کو فوراً حضور ہی کے ہاتھ پر مصافحہ کرتے ہوئے ہاتھ چوم لیا۔والد بزرگوار کے ساتھ کمترین مدح خوانی کیا کرتا تھا۔مولوی صاحب موصوف ( مراد مولوی محمد احسن صاحب امروہی ) نے میرے والد صاحب مرحوم و مغفور سے مخاطب ہو کر کہا کہ حضرت کو نظم سنائیں۔در مشین کی نظمیں اردو فارسی سنائیں۔حضور انور نے فرمایا مکرر۔فرمایا اور پڑھو۔کمترین بھی پڑھتا رہا۔غرض ڈھائی ماہ تک ہم قادیان شریف رہے۔برابر وقتا فوقتا حضور کو اور وقتوں میں اور اصحاب کی قیام گاہوں پر دوستوں کی فرمائش پر برابر نظمیں پڑھتے رہے۔جلسہ کے بعد ایک ہفتہ حضور سیر کو تشریف لے جانے لگے۔ہم سیر میں حضور کے ساتھ حاضر رہتے۔والد صاحب مرحوم و مغفور بہت جو شیلے، دین متین کے لئے غیرت مند اور بہت متقی پابند احکام الہی تھے۔ہمیشہ سے محقق تھے۔اسی باعث نورِ احمدیت سے خدا تعالیٰ نے مستفیض فرمایا۔اسی طرح ہمیشہ حضرت اقدس سے اکثر مسائل استصواب فرماتے رہتے تھے۔۔۔۔حضور ( روانگی از قادیان ۱۵ جنوری ۱۹۰۳ء) جہلم مقدمہ میں جو تاریخ مقرر کی گئی تھی تشریف لے جارہے تھے۔چند روز پیشتر ایک کتاب مواہب الرحمن تصنیف کی جس میں کرم دین کولئیم ، کذاب لکھا ہے۔اس کو جب حضور تصنیف فرما رہے تھے اس وقت کمترین حضور کے کمرہ کے برابر بیت الفکر میں سویا کرتا تھا۔جو مسجد مبارک کے دائیں پہلو میں ہے۔اکثر ایسا ہوتا تھا کہ حضور اندر سے رات کے وقت ۲-۳ بجے کا وقت ہوتا تھا، دروازہ کھول کر تشریف لاتے۔آواز دیتے۔میاں عبدالسمیع۔اس آواز پر میری آنکھ فوراً کھل جاتی گویا کہ جاگ ہی رہا تھا۔اور حضور فرماتے یہ کاپی لے جاؤ اور صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب کو دے آؤ۔میں لے جاتا اور جا کر دے آتا اکثر ایسا موقعہ ہوتا۔چونکہ ایک مدت تک میں وہیں سوتا رہا۔حضور مسیح موعود علیہ السلام رات کے وقت تشریف لاتے اور کوئی خدمت اسی قسم کی میرے سپر دفرماتے۔۱۹۰۲۲ء کا واقعہ ہے کہ حضرت اقدس جن دنوں دافع البلاء (اپریل ۱۹۰۲ء کی تالیف) تحریر فرمارہے تھے انہی دنوں غالباً میں قادیان میں تھا اور جناب والد صاحب امروہہ میں تھے۔امروہہ کی 20