تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 196
تاریخ احمدیت۔جلد 25 196 سال 1969ء حضرت مرز اسلام اللہ صاحب آف قادیان حال چنیوٹ ولادت ۱۸۸۹ء بیعت : ۱۸۹۷ء وفات ۳ را پریل ۱۹۶۹ء آپ کے والد ماجد کا نام مرزا غلام اللہ صاحب تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔اپریل ۱۹۰۷ء میں قادیان کے آریہ اخبار ” مجھے چشتک“ کا پورا عملہ اپنی بد زبانی ، گند اور افترا کی پاداش میں چند دن کے اندر اندر طاعون کا شکار ہو گیا۔خدا کے اس زبر دست قہری نشان کے آپ بھی چشم دید گواہ تھے۔اسی لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے جلسہ سالانہ ۱۹۶۰ء کی تقریر ( عنوان در منثور) مرتب کرتے وقت حسب ذیل نوٹ اخبار الفضل ربوہ ۲۷ راکتو بر ۱۹۶۰ء کے صفحہ اوّل پر سپر قلم فرمایا:۔(۱) مرز اسلام اللہ صاحب کہاں ہیں؟ مرز ا سلام اللہ صاحب متوطن قادیان جہاں بھی ہوں مجھے اس روایت کی تفصیل سے اطلاع دیں جو وہ اخبار شبھ چنتک قادیان کے آریہ مینیجر یا ایڈیٹر کے متعلق سنایا کرتے ہیں کہ جب وہ طاعون کی مرض میں مبتلا ہوا تو اس نے حضرت مولوی عبید اللہ صاحب بسمل کو کہلا بھیجا کہ از راہ مہربانی میرا علاج کریں۔حضرت بسمل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھ کر حضور سے اجازت چاہی۔حضور نے بخوشی اجازت دی مگر ساتھ ہی فرمایا علاج بے شک کریں مگر یہ شخص بچے گا نہیں وغیرہ وغیرہ۔(۲) نیز مرزا اسلام اللہ بیگ صاحب مجھے اخبار شبجھ چنتک کے ایڈیٹروں اور مینجروں کے نام سے بھی مطلع فرمائیں۔جو غالباً بھگت رام اور اچھر چند تھے اور ان کا ایک تیسر اساتھی بھی تھا۔جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔تیسرے کا نام سومراج تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔یہ تین آدمی تھے ایک کا نام سوم راج تھا۔دوسرے کا نام اچھر چند تھا تیسرے کا نام بھگت رام تھا۔پس خدا کے قہری طمانچہ نے تین دن کے اندر ہی ان کا کام تمام کر دیا اور تینوں طاعون کے شکار ہو گئے اور ان کی بلا ان کی اولا داور اہل و عیال پر بھی پڑی۔چنانچہ سومراج نہ مراجب تک اس نے اپنی عزیز اولاد کی موت طاعون سے نہ دیکھ لی“۔(۳) یہ بھی لکھیں کہ ان میں سے ایڈیٹر کون تھا اور مینجر کون تھا؟ مجھے اس اطلاع کی فوری طور پر ضرورت ہے۔جزاہ اللہ احسن الجزاء اہلیہ اور اولاد: آپ کی اہلیہ کا نام محتر مہ رفیعہ بیگم صاحبہ تھا۔اولا د درج ذیل ہے۔