تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 194
تاریخ احمدیت۔جلد 25 194 سال 1969ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابہ کرام کا انتقال حضرت سلطان بی بی صاحبہ بیعت : ۱۹۰۲ء وفات : ۲۲ جنوری ۱۹۶۹ء آپ نیک سیرت ، دعا گو، تہجد گزار، پابند صوم و صلوۃ ، دینی غیرت رکھنے والی اور صاحب کشفہ رؤیا خاتون تھیں۔بیسیوں مستورات نے آپ کی وساطت سے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کی۔مولوی عبد المنان شاہد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ والدہ صاحبہ اکثر فرمایا کرتی تھیں کہ جب میری شادی ۱۹۰۲ء میں ہوئی تو میری خوش دامنہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں بیعت کے لیے قادیان لے گئیں۔ہم نے حضور اقدس کی خدمت میں بتاشے پیش کیے جو حضور نے قبول کرتے ہوئے اپنے پاس رکھ لیے۔پھر تمہاری دادی صاحبہ نے عرض کی کہ میں نے اپنے بڑے بیٹے خیر الدین کی شادی کی ہے۔اور میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ میری بہو ہے۔اور میں اسے بیعت کے لیے اپنے ساتھ لائی ہوں۔حضور اقدس نے خوشی سے فرمایا کہ مبارک ہو۔بعد ازاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت لی اور لمبی دعا کی۔پھر جب ہم حضور سے رخصت ہونے لگے تو حضور اقدس نے وہی بتاشے جو ہم نے پیش کیسے تھے ہمیں واپس دے دیے۔آپ کا اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا اور حضور بھی احسانات اور خاطر داری فرماتے۔اور شادی غمی میں پورا خیال رکھتے۔اسی طرح حضرت خلیفتہ المسیح الاول کا بھی ایسا ہی سلوک رہا۔آپ کو حضرت اماں جان سے گہری عقیدت و محبت تھی۔اسی محبت کا ہی نتیجہ تھا کہ مرحومہ نے فرمایا کہ میں کشفی حالت میں حضرت اماں جان کو اپنے پاس ہی دیکھتی ہوں۔حضرت اماں جان بھی ہمارے گھر کو اپنا ہی گھر سمجھتی تھیں اور قادیان سے سیر کرتے ہوئے ادھر آتیں تو دروازے پر ہی آواز دیتیں کہ گھر والوالسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اور سب سے پہلے والدہ صاحبہ سے معانقہ فرماتیں اور بچوں کے سر پر ہاتھ پھیر تیں۔اور بے تکلفی سے دودھ لسی ،لکھن ہکئی کی روٹی اور ساگ وغیرہ تناول فرماتیں۔کئی دفعہ آپ باورچی خانہ میں ہماری والدہ صاحبہ کے پاس ہی پیڑھی پر بیٹھ جاتیں۔اللہ تعالیٰ نے والدہ صاحبہ کو مہمان نوازی