تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 179
تاریخ احمدیت۔جلد 25 179 سال 1969ء بھی جانتے ہیں کہ ہم کمزور اور لاشے محض ہیں نہ ہم اپنوں کے سامنے ان پر فخر کر سکتے ہیں اور نہ دوسروں کے سامنے۔ہم تو محض تحدیث نعمت کے طور پر اس کا ذکر کرتے ہیں کہ باوجود ہر طرح کی کمزوریوں کے اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل نازل کئے۔اس کے بعد حضور نے فضل عمر فاؤنڈیشن ،تحریک جدید ،تحریک وقف عارضی ، سورۂ بقرہ کی ابتدائی سترہ آیات حفظ کرنے کی تحریک اور صدر انجمن احمدیہ کی آمد پر جذبات تشکر سے لبریز الفاظ میں نہایت شرح وبسط سے روشنی ڈالی۔اور بتایا کہ مخلصین جماعت نے تحدیث نعمت کے طور پر فضل عمر فاؤنڈیشن فنڈ میں معینہ معیاد کے اندر پچیس لاکھ روپے کی بجائے بیتیس لاکھ روپے سے بھی زیادہ رقم پیش کر دی ہے۔سویڈن میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت بڑی جماعت قائم ہوگئی ہے جو یوگوسلاویہ کے مہاجر مسلمانوں پر مشتمل ہے اور انہیں معجزانہ رنگ میں قبولیت احمدیت کی توفیق ملی ہے۔یوگوسلاویہ پہلا کمیونسٹ ملک ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک منظم جماعت قائم ہوگئی ہے۔مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی بکثرت احمدی جماعتیں قائم ہو گئی ہیں۔جاپان میں احمد یہ مشن کا از سر نو قیام عمل میں آیا ہے۔امریکہ مشن نے اپنا پریس جاری کیا۔یورپ میں ۵۶ / افراد نے اور امریکہ میں ۸۲/افراد نے قبول حق کیا ہے۔نگر پارکر سندھ کے علاقہ میں معلمین وقف جدید کے ذریعہ۵۷۰ ہندو اسلام قبول کر چکے ہیں۔چار ہزار سے زائد احمدی بچیاں اور خواتین سورۃ بقرہ کی ابتدائی سترہ آیات حفظ کر چکی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے صدر انجمن احمد یہ پاکستان کے چندوں میں گذشتہ سال کی نسبت سوا دو لاکھ روپے کا اضافہ ہوا۔جو محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کیونکہ یہ سال جو ہنگاموں اور فسادات کے درمیان شروع ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ کی نصرتوں، بشارتوں اور کامیابیوں کے درمیان ختم ہو رہا ہے۔الحمد للہ آخر میں حضور نے اشتراکیت اور اسلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کہنا کہ صرف اشتراکیت یا سوشلزم کو غریب سے ہمدردی ہے۔غلط ہے۔غرباء کا حقیقی معنوں میں ہمدرد اور خیر خواہ سوائے اسلام کے اور کوئی نہیں۔اشتراکیت یا سوشلزم کا نظریہ تو یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کی کم از کم ضروریات کے مطابق دیا جائے لیکن اسلام یہ کہتا ہے کہ انسان کو اپنی ضروریات اور اپنی قوتوں کے نشو ونما کے کمال کیلئے زیادہ سے زیادہ جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ اس کا حق ہے جو بہر حال اس کو ملنا چاہیے اور میرے نزدیک اب وقت آگیا ہے کہ ہم اسلام کے اس نظریہ کو جہاں تک ہماری طاقت اور اختیار میں ہو عملی شکل میں