تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 174
تاریخ احمدیت۔جلد 25 174 سال 1969ء مخلصین اور عشاق مشرقی اور مغربی پاکستان کے کونہ کونہ سے ہی نہیں بلکہ بھارت، گھانا، تنزانیہ، زیمبیا، نائیجیریا، کویت، ابوظہبی ، افغانستان، انڈونیشیا، انگلستان، مغربی جرمنی، سوئٹزرلینڈ ، ہالینڈ ، امریکہ اور کینیڈ اوغیرہ ممالک سے دیوانہ وار کھنچے چلے آئے۔بیرونی ممالک سے تشریف لانے والوں میں سے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب (ہالینڈ)، ظفر اللہ الیاس صاحب ( نائیجیریا ) ، الحاج حسن العطاء صاحب (صدر جماعتہائے احمدیہ اشانٹی ریجن گھانا ) ، مولوی عبد الکریم صاحب (لندن) ، شیخ ناصر احمد صاحب (سوئٹزرلینڈ)، افتخار احمد صاحب ایاز ( تنزانیہ)، ایم عبدالشکور صاحب چوہان ( انڈونیشیا) اور چوہدری نذیر احمد صاحب ( کویت) خاص طور پر قابل ذکر تھے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا افتتاحی خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الثالث نے اپنے وجد آفرین افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب امت مسلمہ کو اس طرف پکارا کہ غلبہ اسلام کے لئے مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔میری طرف آؤ اور میرے انصار بنو اور اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے حصول کیلئے قربانی دو اور ایثار دکھاؤ۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے آگے فرمایا: اُن کی زندگی کیلئے موت تک دریغ نہیں کروں گا“۔(اشتہار ۴ مارچ ۱۸۸۹ء) 157 اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نائب اور خلیفہ کی حیثیت سے میرے دل میں بھی یہ جوش پیدا کیا ہے کہ میں اپنے رب کریم سے آپ دوستوں کیلئے انہی باتوں کو چاہوں اور طلب کروں۔میری جان آپ پر قربان، میں ہمیشہ آپ کیلئے ہر رنگ میں دعائیں کرتا رہتا ہوں۔آپ جب اس جلسہ کیلئے سفر شروع کرتے ہیں تو میرے دل میں بڑی فکر پیدا ہوتی ہے۔سفر کی تکالیف ہیں۔سفر کے حادثات ہیں۔سفر کی پریشانیاں ہیں۔میں ان کو سوچتا ہوں اور اپنے ربّ کریم کے حضور جھک کر آپ کیلئے اس کی حفاظت اور امان چاہتا ہوں۔جب آپ یہاں آ جاتے ہیں۔مجھے یہ فکر دامنگیر رہتی ہے کہ کہیں ہمارے مخلص رضا کاروں کی کسی غفلت کے نتیجہ میں آپ میں سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔پھر مجھے یہ فکر رہتی ہے کہ خود آپ کے نفوس آپ کی پریشانی کا باعث نہ بنیں۔جس