تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 173
تاریخ احمدیت۔جلد 25 173 سال 1969ء جلسہ گاہ میں خاصی رونق ہوتی رہی۔اپنے احباب جماعت کے علاوہ غیر مسلم دوست بھی خاصی تعداد میں شریک جلسہ ہوتے اور پوری دلجمعی کے ساتھ تقاریر کو سنتے رہے۔جالندھر ریڈیو کے کارندے بھی تشریف لائے اور متعدد تقاریر کے ٹیپ ریکارڈ لیتے رہے۔مردانہ جلسہ کے پہلے اور تیسرے روز کی کارروائی بذریعہ لاؤڈ سپیکر (جس کا تمام اجلاسات میں معقول انتظام تھا ) زنانہ جلسہ گاہ میں بھی سنی جاتی رہی جبکہ درمیانے روز مستورات کا اپنا علیحدہ پروگرام تھا وہ بھی بحسن وخوبی پورا ہوا۔صدر لجنہ اماء الله مرکز یہ محترمہ بیگم صاحبہ مرزا وسیم احمد صاحب کے پاؤں میں پلستر لگا ہوا تھا جس کے سبب وہ خود تو جلسہ گاہ میں تشریف نہ لاسکیں لیکن نائب صدر صاحبہ کی نگرانی میں یہ اجلاس منعقد ہوا۔محترمہ بیگم صاحبہ اسی حالت میں دارا مسیح میں مقیم مہمانانِ کرام کی ضیافت اور خدمت سرانجام دیتی رہیں۔محترم سردار ستنام سنگھ صاحب باجوہ وزیر پنجاب نے حسب سابق امسال بھی پاکستانی احباب جماعت کے قافلہ اور چیدہ چیدہ ہندوستانی احباب جماعت کو بتاریخ ۲۱ دسمبر اپنے مکان پر دعوت دی۔جہاں چائے اور مٹھائی کے ساتھ تواضع کرنے کے بعد پہلے سردار پریتم سنگھ صاحب نے تعارفی تقریر کی بعدۂ خود جناب سردار ستنام سنگھ صاحب باجوہ نے خطاب فرمایا۔جس میں جماعت احمدیہ کے ساتھ اپنے تعلقات اور احباب جماعت کے حسنِ سلوک اور پُر خلوص تعاون کا تذکرہ کیا اور مہمانان کرام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنی شدید مصروفیت کے سبب زیادہ وقت نہ دے سکنے پر معذرت کی اور واضح کیا کہ انسانیت کا مرتبہ سب سے بلند ہے جس کے سامنے ہر قسم کی مذہبی حدود ختم ہو کر ہر شخص ایک ہی اونچے مقام پر نظر آتا ہے۔اور ہم انسانیت کی قدر کرنے والے ہیں اور آپس میں محبت والفت کے ساتھ رہتے ہیں۔جناب باجوہ صاحب کے ایسے پُر خلوص اظہار خیال کے بعد امیر قافلہ نے احباب قافلہ کی طرف سے اور جناب سید اختر احمد صاحب اور مینوی نے ہندوستانی احباب جماعت کی طرف سے جناب باجوہ صاحب کا شکریہ ادا کیا اور آخر میں حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب امیر مقامی نے ساری جماعت کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔جلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۶۹ء 66 156 ربوہ کی مقدس سرزمین میں جماعت احمدیہ کاللہی جلسہ سالانہ اس سال ۲۷،۲۶، ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء کو منعقد ہوا۔جس میں شمع احمدیت کے کم و بیش ایک لاکھ پروانے جمع ہوئے۔آنے والے