تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 157
تاریخ احمدیت۔جلد 25 157 سال 1969ء نانک کی زندگی کے چیدہ چیدہ حالات بیان کرتے ہوئے آپ کی تعلیم وحدانیت اور ہندو مسلم اتحاد کو پیش کیا۔اور مسلمانوں کے ساتھ آپ کے گہرے تعلقات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ آپ عارف باللہ اور تو حید پرست اور ولی اللہ تھے۔اور ساتھ ہی قرآن کریم کی آیات اور مقدس حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تحریرات سے صلح کل عقیدہ کی وضاحت کی۔محترم ڈاکٹر صاحب موصوف کی ایک اور مولوی عبد الحق فضل صاحب کی تین تقاریر اس موقعہ پر ہوئیں۔علاوہ ازیں ڈاکٹر سید منصور احمد صاحب صدر جماعت احمد یہ مظفر پور کی ایک تقریر ۱۹ اکتوبر کو بھی سکھوں اور مارواڑیوں کے ایک اجتماع میں اسی موضوع پر ہوئی۔جماعت احمدیہ کے مقررین کو از حد پسند کیا گیا۔سردار گورنام سنگھ صاحب وزیر اعلی پنجاب اس تقریر کے خصوصی مہمان تھے۔مولوی عبدالحق فضل صاحب نے موصوف کی خدمت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تصنیف لطیف اسلامی اصول کی فلاسفی گورمکھی ایڈیشن کا مقدس تحفہ پیش کیا جو موصوف نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔اس اجتماع میں دور دراز علاقوں سے شریک ہونے والے متعدد سکھ معززین کی خدمت میں بھی جماعت احمدیہ کا گورمکھی زبان میں شائع شدہ لٹریچر پیش کیا گیا۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے اعزاز میں الوداعی تقریب صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے صدر مجلس خدام الاحمدیہ کی حیثیت سے تین سال تک نہایت گرانقدر اور شاندار خدمات انجام دیں جس کے بعد آپ اس سال کے آخر میں انصار اللہ میں شامل ہو گئے۔بعد ازاں حضرت خلیفہ اسیح کے ارشاد پر چوہدری حمید اللہ صاحب ایم۔اے نے خدام الاحمد یہ مرکزیہ کی صدارت سنبھالی۔۱/۲۹ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ کی طرف سے ایوانِ محمود میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے اعزاز میں الوداعی دعوت دی گئی جس میں حضرت خلیفہ اسح الثالث نے بھی شمولیت فرمائی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ایک نہایت ہی بصیرت افروز تقریر ارشاد فرمائی جس میں حضور نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے کام کو سراہتے ہوئے ان کی خدمات قبول ہونے اور نئے صدر چوہدری حمید اللہ صاحب کو صحیح رنگ میں خدمات بجالانے کی توفیق ملنے کے لئے دعا کی تحریک کی۔چنانچہ فرمایا:۔قرآن کریم میں خلافت کے دو کام بتائے گئے ہیں، ایک ہے تمکین دین اور دوسرا ہے خوف سے حفاظت۔اور قرآن کریم کی رُو سے یہ دونوں کام جب تک