تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 348 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 348

تاریخ احمدیت۔جلد 24 348 سال 1967ء رہی۔شیخ صاحب مرحوم کئی سالوں سے بیمار چلے آرہے تھے۔اور لاہور میں صاحب فراش تھے۔چنانچہ فروری ۱۹۶۵ میں جبکہ وہ صاحب فراش تھے۔والد صاحب مجھے لے کر ان کی عیادت کے لئے لاہور گئے۔والد صاحب بھی اُن کی ملاقات کے لئے تڑپتے تھے۔اور وہ بھی والد صاحب کی یاد سے رو پڑتے۔چنانچہ دونوں دوستوں کی ملاقات ہوئی۔پھر والد صاحب نے ان کے لئے علاج تجویز کیا۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے صحت میں ترقی ہونے لگی۔ان دوستوں کے باہمی تعلق کا اس سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرحوم کے لڑکے مکرم امیر احمد صاحب نے بتایا کہ جب سے حضرت ڈاکٹر صاحب فوت ہوئے ہیں۔محترم شیخ صاحب مرحوم کو قریب روزانہ ہی خواب میں ملتے تھے۔اولاد ا۔رشید احمد صاحب ۲۔نذیر احمد صاحب ۳۔شیخ نار احمد صاحب ۴۔خورشید احمد صاحب ۵۔امیر احمد صاحب کینیڈا۔۶۔رشیدہ بیگم صاحبہے۔حمیدہ بیگم صاحبہ ۸ - جعفری بیگم صاحبہ ۹ - رابعہ بیگم صاحبہ حضرت ملک نیاز محمد صاحب کسووال ضلع ساہیوال ولادت: ۱۸۸۷ء بیعت : ۱۹۰۴ء وفات: ۱۲ دسمبر ۱۹۶۷ء 10 آپ کے والد ماجد حضرت ملک برکت علی صاحب ککے زئی افغان متوطن را ہوں ضلع جالندھر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔( بیعت غالبا ۹۸-۱۸۹۷ رجسٹر روایات جلد ۳ صفحه ۲۲۷۔حضرت چوہدری برکت علی خاں صاحب آف گڑھ شنکر کا بیان ہے ” میں جب ۱۸۹۸ء میں اپنے ننھیال سے آیا تو آپ اس وقت احمدی تھے) ملک نیاز صاحب طالبعلمی کے دوران ۱۹۰۴ ء کی گرمیوں کی موسمی تعطیلات میں رہنے اپنے بڑے بھائی حضرت حکیم دین محمد صاحب اکاؤنٹنٹ کی تحریک پر پہلی بار قادیان آئے۔ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع افراد خاندان و صحابہ باغ میں رونق افروز تھے۔آپ نے حضرت اقدس کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقدمہ کرم دین کے سلسلہ میں گورداسپور تشریف لے گئے تو آپ کو بھی وہاں جانے کا موقع ملا۔آپ کا بیان ہے کہ ۱۹۰۴ء میں جب میں قادیان میں آیا تھا اور حضور مع احباب باغ میں فروکش تھے تو رات کے