تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 81 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 81

تاریخ احمدیت۔جلد 24 81 سال 1967ء ہے۔اور اس نے تو گویا آئندہ کے حالات کی تصویر کھینچ کر رکھ دی ہے کہ تیسری جنگ میں بعض مقامات ایسے ہوں گے جہاں آبادیوں کا نام و نشان تک مٹ جائے گا۔نہ صرف یہ کہ ان حصوں سے انسانی آبادی معدوم ہو جائے گی بلکہ پرندے، مویشی اور مچھر نہ رہیں گے۔گویا ہر قسم کی حیات کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔کوئی آدمزاد اس قوم یا ساری دنیا کو نہیں بچا سکتا۔قوم کے بچنے کی صرف ایک امید ہے کہ وہ اپنے خالق اور تمام جہانوں کے رب کے ساتھ صحیح قسم کا تعلق پیدا کریں مگر یورپ کے رہنے والے اس قسم کی باتوں پر کب کان دھرتے ہیں۔وہ ابھی ایسی چیزوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔مجھے اس کی تشویش بہت زیادہ ہے کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ دنیا مصیبت کا منہ دیکھے۔یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ یہاں کے رہنے والے لوگوں کی آنکھیں کھولیں۔قرآن کریم ایک بہت عظیم الشان کتاب ہے اس کا ترجمہ آپ کے پاس موجود ہے مگر ہم ابھی بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا ترجمہ نہیں کر سکے۔یہ کتب قرآن کریم کے معانی کی تفسیر ہیں۔اور یہ نہایت ضروری چیز ہے۔کیونکہ یہی تفسیر ان مشکلات کا حل ہے جو آج دنیا کو درپیش ہیں۔جب تک آپ کو ان کتب کے مضامین سے اطلاع نہیں ہوتی آپ اس عظیم الشان کتاب کی عظمت اور حسن و جمال کو نہیں سمجھ سکتے۔بہت سے لوگ جو یہاں ہیں اور اپنے آپ کو عیسائی کہتے ہیں وہ صرف نام کے عیسائی ہیں کیونکہ اگر وہ پُرانے اور نئے عہد نامہ کو غور سے پڑھیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ اس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پیشگوئیاں موجود ہیں۔دونوں عہد نامے مکمل شریعت ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے بلکہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ ان کی تعلیم مکمل نہیں ہے اور یہ کہ تم ایک ایسے آنے والے کا انتظار کرو جو مکمل شریعت لائے گا۔اس نئی شریعت لانے والے کی آمد کے بارے میں تو دونوں صحیفے متفق ہیں۔سوال صرف یہ ہے کہ وہ ہے کون؟ اِس موضوع پر ہمیں بحث کر لینی چاہئیے۔یہاں کے عیسائیوں کو اپنے مذہبی سر براہوں کو اس امر کے لئے تیار کرنا چاہئیے تا فیصلہ ہو کہ وہ موعود کون ہے جس کی حضرت موسیٰ“ ویسٹی نے خبر دی۔جہاں تک خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تعلق ہے وہ تو خود فرماتے