تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 76
تاریخ احمدیت۔جلد 24 76 سال 1967ء اے حافظ قرآن خدا حافظ و ناصر خوش الحانی سے پڑھی۔اس کے بعد حضرت خلیفہ المسح الثالث نے انصار اللہ کا عہد دہرانے کے بعد اجتماعی دعا کرائی اور پھر ۴۵ منٹ تک نہایت روح پرور خطاب فرمایا۔احمد یہ ہال کے اندر اور باہر دور دور تک سڑک پر شامیانے کے نیچے احباب کثیر تعداد میں جمع تھے۔اوپر گیلری خواتین سے پڑ تھی۔حضور کے خطاب کے بعد تھوڑی دیر اجلاس جاری رہنے کے بعد اگلے دن کے لئے ملتوی ہو گیا۔یہ اجتماع مورخہ 9 جولائی کو بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا۔کراچی سے فرینکفورٹ تک جولائی کو اجتماعی دعا کے بعد حضور کا قافلہ کراچی کے ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہوا۔اس موقع پر جماعت کراچی کی جانب سے ایک بکرا قربان کیا گیا۔(جب تک حضور دورہ سے واپس تشریف نہیں لائے جماعت کراچی نے روزانہ ایک بکرا قربان کرنے کا سلسلہ جاری رکھا)۔حضور جب ائیر پورٹ پہنچے تو جماعت کے مردوں اور خواتین کی کثیر تعداد پہلے سے جمع تھی۔جن میں خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد، متعدد جماعتوں کے امراء اور پریذیڈنٹ صاحبان، مربیان سلسلہ احمدیہ، کراچی کے سر بر آوردہ احباب اور لجنہ اماءاللہ کی نمائندہ خواتین شامل تھیں۔حضور کی نشست کے لئے ائیر پورٹ پر علیحدہ انتظام کیا گیا تھا۔جتنا عرصہ حضور اپنے خدام میں موجودر ہے مختلف نصائح فرماتے رہے۔یہاں پھر حضور نے دعا کرائی۔جوں جوں جدائی کا وقت قریب آ رہا تھا۔خود حضور کے چہرہ مبارک پر اداسی کا اثر نمایاں تھا۔بالآخر جب مسافروں کے جانے کا اعلان ہوا تو حضور مع قافلہ کے ہوائی جہاز کی طرف روانہ ہوئے۔جہاز کی آخری سیڑھی پر کھڑے ہوکر حضور نے اپنے خدام پر مشفقانہ نگاہ ڈالی اور ہاتھ کے اشارے سے الوداعی سلام کیا۔اس وقت ہر آنکھ اشکبار تھی ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے جب طیارہ حرکت میں آیا ائیر پورٹ کی فضا پُر جوش نعروں سے گونج اٹھی۔اور ہر لب پر یہ تھا۔بسلامت روی و باز آئی حضور ساڑھے آٹھ بجے پی۔آئی۔اے کے بوئنگ بی۷۲۰ طیارے کے ذریعے براستہ تہران و ماسکو، فرینکفورٹ کے لئے روانہ ہوئے۔یہ طیارہ نو بج کر پنتالیس منٹ پر تہران کے فضائی مستقر پر