تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 74 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 74

تاریخ احمدیت۔جلد 24 74 سال 1967ء مبارک احمد صاحب قائد مجلس خدام الاحمدیہ کے سپرد کئے گئے۔حضور کی پیشوائی کے لئے جناب کیپٹن سید افتخار حسین صاحب نائب امیر جماعت اور نائب قائد نعیم احمد صاحب کو حیدر آباد بھجوایا گیا۔انہوں نے جماعت کی جانب سے حضور کو خوش آمدید کہا۔اگر چہ گاڑی کی آمد کا وقت کراچی کینٹ پر سوا نو بجے مقرر تھا۔لیکن ے جولائی کو احباب جوق در جوق صبح آٹھ بجے سے ہی اسٹیشن پر جمع ہونے شروع ہو گئے۔ساڑھے آٹھ بجے تک پلیٹ فارم بھر گیا۔اس موقع پر کراچی کے علاوہ بیرونی جماعتوں کے بھی بہت سے احباب الوداع کہنے کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔چنانچہ لاہور سے چوہدری اسد اللہ خان صاحب امیر جماعت احمد یہ لاہور، کوئٹہ سے شیخ محمد حنیف صاحب امیر جماعت کوئٹہ اور سکھر سے مکرم صوفی محمد رفیع صاحب امیر جماعت بالائی سندھ ، حاجی عبدالرحمان صاحب رئیس باندھی (سندھ)، پریذیڈنٹ صاحب جماعت احمدیہ حیدر آباد کے علاوہ سندھ اور پنجاب کی دیگر جماعتوں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔مختلف علاقوں کے مربی صاحبان بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔انتظام کے ماتحت جملہ احباب کو دورویہ قطاروں میں کھڑا کیا گیا۔خواتین کے لئے علیحدہ قطار تھی جو لجنہ اماء اللہ کراچی کے زیر اہتمام قائم کی گئی تھی۔اتفاقاً اس دن گاڑی پونے تین گھنٹے لیٹ تھی۔گرمی کی شدت کے باوجود دوست وہیں پر اپنے پیارے امام کی آمد کے لئے چشم براہ رہے۔حضور کی گاڑی جو نہی اسٹیشن پر ٹھہری اور آپ باہر تشریف لائے اسٹیشن کی فضا پر جوش نعروں سے گونج اٹھی۔پروگرام کے مطابق حضور اس دورویہ قطار کے درمیان سے گزرتے ہوئے احباب کے سلام کا جواب دیتے ہوئے اسٹیشن سے باہر تشریف لائے۔اس موقع پر متعدد پریس فوٹوگرافر اور دوسرے فوٹوگرافروں نے حضور کی آمد اور استقبال کے متعددفوٹو لئے۔جو مقامی اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوئے۔اور حضور کی تصویر کے ساتھ سفر کی غرض وغایت کو بھی واضح کیا گیا۔حضور کی باوقار، بارعب شخصیت، سادگی متبسم چہرہ، جماعت کی والہانہ فدائیت نظم و ضبط یہ سب ایسی چیزیں تھیں جود یکھنے والوں کو متاثر کئے بغیر نہ رہ سکیں۔کسی نے کہا کہ آج کراچی میں بہت بڑا پیر آیا ہے۔جس کے استقبال کے لئے اتنی مخلوق ٹوٹ پڑی کہ چاروں طرف کاریں ہی کاریں ہیں۔کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ قادیانی لوگوں کی اپنے امام سے محبت اور فدائیت قابلِ رشک ہے۔کوئی یہ کہہ رہا تھا۔ان کا امام کس قدر خوبصورت اور نورانی چہرہ والا ہے۔الغرض اپنے اور پرائے سب کی زبانوں پر حضور کی آمد کا چر چا تھا۔حضور کی سواری متعدد کاروں