تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 73 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 73

تاریخ احمدیت۔جلد 24 73 سال 1967ء ربوہ سے روانگی اور کراچی میں ورود مسعود گاڑی دس جگر پینتیس منٹ پر ربوہ کے اسٹیشن پر پہنچی۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث اور قافلہ کے دیگر ارکان جو نہی گاڑی میں سوار ہوئے۔تو احباب دیوانہ وار حضور کے ڈبہ کی طرف دوڑ پڑے۔گاڑی روانہ ہونے تک حضور اپنے ڈبہ کے دروازے میں کھڑے رہے۔پونے گیارہ بجے گاڑی نے وسل دی۔جونہی گاڑی حرکت میں آئی۔احباب نے پر جوش نعرے لگا کر حضور کو دلی دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔اس وقت احباب پر عجب وارفتگی کا عالم تھا۔بعض احباب بلند آواز سے دعائیں پڑھ رہے تھے۔اور بہت سے احباب حضور انور کی اس عارضی جدائی پر اشکبار تھے۔جب تک گاڑی پلیٹ فارم کے ساتھ گزرتی رہی۔حضور گاڑی کے دروازے میں کھڑے ہاتھ ہلا ہلا کر احباب کے سلام کا جواب دیتے رہے۔اس وقت حضور کی آنکھیں بھی پر نم تھیں۔اور حضور ز مرلب دعاؤں میں مصروف تھے۔گاڑی روانہ ہوتے ہی حضور کی طرف سے سات بکرے بطور صدقہ ذبح کئے گئے۔نیز صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب نے اپنی طرف سے ایک بکرا ذبح کرایا۔خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور لجنہ اماءاللہ کی طرف سے بھی بکرے بطور صدقہ ذبح کئے گئے۔لوکل انجمن احمد یہ ربوہ کے زیرانتظام ربوہ کے جملہ محلہ جات میں بھی اس روز نماز فجر کے بعد ایک ایک دو دو بکرے ذبح کئے گئے۔73 ربوہ سے کراچی تک تمام بڑے بڑے اسٹیشنوں پر بلکہ بعض چھوٹے چھوٹے اسٹیشنوں پر بھی بکثرت احمدی افراد نے اپنے امام کا استقبال کیا۔اور حضور سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے کے لئے ریلوے اسٹیشنوں پر تنظیم کے ساتھ قطاریں باندھ کر حاضر ہوتے رہے۔حضور سخت گرمی اور تھکان کے باوجود اپنے غلاموں کو ملاقات کا شرف بخشتے رہے اور ملاقاتوں کا یہ سلسلہ رات کو بھی جاری رہتا تھا۔جگہ جگہ مختلف اسٹیشنوں پر حضور قیمتی نصائح سے احباب کو نوازتے رہے اور خصوصیت سے قرآن کریم کے پڑھنے اور اسپر عمل کرنے کی تلقین فرمائی۔حضور کی ربوہ سے روانگی کی اطلاع پاتے ہی جماعت کراچی نے استقبال کے لئے ضروری تیاریاں مکمل کر لیں۔اور ایک مسرت کی ہر تھی جو قلوب میں موجزن تھی۔چوہدری احمد مختار صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی نے اس سارے انتظام کا نگران اعلیٰ مقامی طور پر میجر شمیم احمد صاحب ایڈیشنل نائب امیر جماعت احمدیہ کراچی کو مقرر کیا۔حفاظت اور دیگر بعض ضروری انتظامات ملک 74