تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 853
تاریخ احمدیت۔جلد 24 831 سال 1968ء قرآنی تعلیم اور مساوات کے موضوع پر خاص طور پر روشنی ڈالی گئی۔جلسہ کے بعد ا کثر دوستوں نے مبارکباد دی اور یہ سلسلہ کئی روز تک جاری رہا۔یہ تقریب ٹیلیویژن پر دکھائی گئی جس میں خاص مدعوین کی تعداد پانچ سو سے زائد تھی۔دوسری تقریر جنوب مشرقی علاقہ کے شہر ماہی برگ (MAHEBOURG) میں کرنے کا موقع ملا جس کا انتظام وہاں کے طلباء کی ایک انجمن نے کیا تھا۔اس جلسہ میں حاضرین کی تعداد کم و بیش دو ہزار تھی۔ڈیوائن لائف سوسائٹی (DIVINE LIFE SOCIETY) نے اپنے نئے آشرم کے افتتاح کے موقع پر وزراء حکومت، ممبران پارلیمنٹ، غیر ملکی سفراء، اعلیٰ سرکاری عہد یداران، تجار، اساتذہ اور طلباء کو مدعو کیا۔سوسائٹی کے عالمی صدر بھی رشی کیش (بھارت) سے آئے ہوئے تھے۔تقریب کا آغاز سورۃ مومنون کے پہلے رکوع کی تلاوت سے ہوا جو تعلیم الاسلام احمد یہ کالج کے ایک طالبعلم نے کی۔پھر کالج کے طلباء نے مل کر ایک دعائیہ نظم پڑھی۔آخر پر مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر نے تلاوت قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام کے نزدیک عبادت گاہ کی تعمیر کی کیا اغراض ہیں اور پھر چھ منازل کو طے کرتے ہوئے انسان روحانیت کو کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس تقریب میں جماعت احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی نمائندگی پوری شان سے ہوئی۔اس تقریب کی تفصیل مقامی اخبارات میں شائع ہوئی اور ٹیلیویژن پر یہ تقریب ملک بھر میں بار بار دکھائی گئی۔جماعت احمدیہ کے ایک دوست نے ایم۔بی۔ای (M۔B۔E) کا خطاب ملنے پر خوشی کی ایک تقریب منعقد کی جس میں ہندو، مسلمان اور عیسائی بھی مدعو تھے۔اس موقع پر بھی مولانا موصوف کو خطاب کرتے ہوئے اسلامی تعلیم پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔اسی طرح ہند ولٹریری سرکل نے اپنے سالانہ جلسہ میں آپ کو تقریر کی دعوت دی۔چنانچہ آپ نے سینکڑوں حاضرین کو اسلام کی دلکش تعلیم سے آگاہ کیا۔مسلم سپر کلب (MUSLIM SPUR CLUB) نے انچارج احمد یہ مشن ماریشس کو اپنی دسویں سالانہ تقریبات میں شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے انسانی حقوق“ کے موضوع پر مذاکرہ میں تقریر کی درخواست کی جس میں آپ کے علاوہ دوسرے مقررین میں یونیورسٹی آف ماریشس کے