تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 852 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 852

تاریخ احمدیت۔جلد 24 830 سال 1968ء نے اپنی تقریر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی عملی مساوات اور زبردست کامیابی کا اعتراف کیا۔اس کے بعد ایک ہندو دوست جناب گا گا (GAGA) نے اپنی نظم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں سنائی۔بعد ازاں ایک مشہور و معروف کیتھولک عیسائی پادری جناب ایچ سوشون (H۔SOUCHON) نے اپنی تقریر میں اسلام کی بعض خوبیوں کو پیش کرنے کے بعد بتایا کہ اسلام اشتراکیت کے مقابلہ کی قوت سے متصف ہے۔اس جلسہ کے انعقاد سے پہلے ملکی اخبارات میں اعلان ہوتے رہے۔پھر جلسہ کی رپورٹ تصاویر سمیت شائع ہوئی نیز ٹیلیویژن کے ذریعہ بھی ملک بھر کے لوگوں نے اس بابرکت تقریب کو دیکھا اور سنا۔111 ان دنوں جماعت احمدیہ ماریشس کے زیر اہتمام آٹھ مدارس کام کر رہے تھے جن میں بچوں کو قرآن مجید پڑھانے اور دینی تعلیم دینے پر نو اساتذہ مامور تھے۔ان سکولوں میں درجنوں مسلمان بچے بھی زیر تعلیم تھے۔امسال چار سیمینار بھی سکولوں کی تنظیمی اور تعلیمی حالت بہتر بنانے کے لئے منعقد کئے گئے۔تعلیم الاسلام احمد یہ کالج بھی اس سال کے دوران جاری ہوا اور رجسٹر ڈ بھی کر لیا گیا۔احمد حسن صاحب سوکیہ (ریٹائر ڈ گورنمنٹ ہیڈ ماسٹر ) اس کے پرنسپل تھے۔اسی طلباء نے اس میں داخلہ لیا۔ملک کی آزادی کے بعد ” ہم اور ہمارا مستقبل کے موضوع پر مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر کو بارہ تقاریر کا ایک سلسلہ ریڈیو پر نشر کرنے کا موقع ملا۔پھر ۱۹۶۸ء کی آخری سہ ماہی میں وقت کی آواز کے عنوان سے آپ کی تقاریر ہر پندرہ دن کے بعد ریڈیو پر نشر ہوئیں۔جن میں آپ نے ملکی حالات پر اسلامی نقطۂ نگاہ سے تبصرہ کیا۔مثلاً ایک مرتبہ کا لجوں کے طلباء کی طرف سے یہ آواز اٹھی کہ ہمیں ایک نئے عالمگیر مذہب کی ضرورت ہے۔چنانچہ مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر نے اپنی ریڈیو تقریر میں اس امر پر اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ جو خوبیاں یہ طلباء نئے مذہب میں دیکھنا چاہتے ہیں وہ سب کی سب اسلام میں موجود ہیں۔دیگر تقاریر میں خدمت ملک و قوم ، شادی بیاہ ، فیشن، حقوق نسواں ، چاند کے سفر اور دور حاضر کی ایجادات کی تفصیل قرآن کریم کی رُو سے پیش کرنے کا موقع ملا جسے مسلمان بھائیوں کے علاوہ ہندوؤں میں بھی مقبولیت حاصل ہوئی۔۲ اکتوبر ۱۹۶۸ء کو محکمہ تعلیم کے تحت یونیسکو کی راہنمائی میں ایک جلسہ عام ہوا جس میں گورنر جنرل، وزراء اور غیرممالک کے سفراء کے علاوہ مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر کی تقریر بھی ہوئی جس میں