تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 69 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 69

تاریخ احمدیت۔جلد 24 69 سال 1967ء کرونگا تا وہ دل جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے نا آشنا ہیں اور وہ زبانیں جو آج آپ پر طعن کر رہی ہیں وہ دل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے بھر جائیں اور ان زبانوں پر درود جاری ہو جائے اور تمام ملکوں کی فضا نعرہ ہائے تکبیر اور درود سے گونجنے لگے اور وہ فیصلے جو آسمان پر ہو چکے ہیں زمین پر جاری ہو جائیں۔۔۔۔پس بہت دعائیں کریں بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اس سفر کو مبارک کرے۔اور اللہ تعالیٰ میری غیر حاضری میں بھی جماعت کو ہر فتنہ سے محفوظ رکھے وہی سب کام بنانے والا ہے۔لیکن دل جہاں آپ کی جدائی سے غم محسوس کرتا ہے وہاں یہ خیال بھی آتا ہے کہ ایسے موقع پر بعض منافق فتنے بھی پیدا کیا کرتے ہیں تو جماعت کے ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے فتنوں کو فور دبا دے۔میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر بعض منافق طبع فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر شروع میں ہی ان کو اس رنگ میں سمجھایا جائے کہ یہ جماعت خدا کے فضل سے اتنی مضبوط ہے کہ تمہارے فتنوں سے متاثر نہیں ہوگی، اگر تم باز نہ آئے اگر تمہیں سزا دینے والے بھی یہاں موجود ہیں تو پھر یہاں تک نوبت نہیں پہنچتی کہ ضرور ایسے لوگوں کو سزادی جائے ان کو سمجھ آجاتی ہے کہ ہماری دال اس قوم میں گلتی نہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے چوکس جماعت ہے، قربانی کرنے والی جماعت ہے،حالات کو سمجھنے والی جماعت ہے۔66 سفر پر روانگی سے قبل احمدی مستورات سے خطاب حضور نے سفر یورپ پر روانگی سے قبل ۴ جولائی ۱۹۶۷ء کی شام 4 بجے لجنہ اماءاللہ کے ہال میں ربوہ کی مستورات سے ایک پُر اثر خطاب فرمایا۔جس میں بتایا کہ پرسوں جمعرات کی صبح میں انشاء اللہ یورپ کے سفر پر روانہ ہو رہا ہوں۔اس سفر کا اصل مقصد یہ ہے کہ کوپن ہیگن میں خدا کا جو گھر ہماری بہنوں نے ان ظلمت کدوں میں روشنی کرنے کے لئے تعمیر کیا ہے۔اس کا افتتاح کروں۔آپ نے بڑی قربانی دیکر اسے تعمیر کیا ہے۔آپ کا حق ہے کہ میں یہ دعا کروں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اسکی جزائے خیر دے اور میرا یہ حق ہے کہ آپ میرے اور میرے ساتھیوں کے لئے دعا کریں اور ان قوموں کا بھی حق