تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 817
تاریخ احمدیت۔جلد 24 795 سال 1968ء نے جواب دیا کہ ایلیا جو آنے والا تھا یہی ہے جس کے سننے کے کان ہوں وہ سن لے۔(متی ۱۴- ۱۱/۱۵) مگر یہودیوں نے نہ مانا اور کہا کہ ہم تو اصل ایلیاء ہی کا آسمان سے نازل ہونا مانتے ہیں نہ کہ اس کے مثیل کا مبعوث ہونا۔مولوی صاحب موصوف نے لکھا کہ یہودی گمراہ اور ہٹ دھرم تھے اس لئے انہوں نے انکار کر دیا۔بالکل اسی طرح اس زمانہ میں مسیح کا نزول حضرت احمد علیہ السلام کی بعثت کے ذریعہ ہو چکا ہے۔جس کے کان سننے کے ہوں سنے۔اگر آپ انکار کریں گے تو آپ فریسیوں کے قدم بقدم چلنے والے ہوں گے۔اس اشتہار کا پادری صاحب کے پاس پہنچنا تھا کہ وہ بہت ناراض ہو گئے۔انہوں نے اپنے لیکچر کے دوران بار بار زور دار الفاظ میں اعلان کیا کہ رنگین کا غذ والے اشتہار میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں آپ ان کو پڑھ کر ہر گز نہ گھبرا ئیں۔میں کل ان تمام باتوں کا جواب دوں گا۔لوگوں پر اشتہار کا بہت اثر ہوا۔عیسائیوں میں گھبراہٹ کے آثار بھی تھے جس کا اظہارانہوں نے خود اپنی زبانوں سے بھی کیا مگر پادری صاحب کے اعلان سے کہ ان تمام باتوں کا کل میں جواب دوں گا عیسائیوں کو کچھ تسلی ہوئی اور لوگ جوابات سننے کے لئے خیمہ میں حاضر ہوئے مگر ان کی مایوسی کی انتہا نہ رہی جبکہ پادری صاحب نے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کیا کہ میں ان باتوں کا ہرگز جواب نہ دوں گا۔جس نے کوئی سوال پوچھنا ہو وہ چٹ پر لکھ کر میرے لیٹر بکس میں ڈال دے۔اگلے دن اس کے جوابات دیئے جائیں گے یا سائل میرے پاس آئے اور زبانی گفتگو کرے۔اگلے ہی دن ان کی یہ خواہش بھی پوری کر دی گئی کہ ان کے ساتھ زبانی گفتگو کی جائے۔شروع میں پادری صاحب نے چابکدستی دکھائی مگر چند ہی منٹ میں ان کی بوکھلاہٹ صاف ظاہر ہو گئی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اس قول کا حوالہ دیں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو تمام انبیاء سے افضل قرار دیا ہے تو کہنے لگے کہ میں نے اپنی تقریر میں ایسی بات ہرگز نہیں کہی حالانکہ اس کے گواہ موجود تھے۔ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ پادری صاحب کہنے لگے آج مجھے فرصت نہیں کل چار بجے بعد دو پہر مجھے فرصت ہوگی اس وقت مزید گفتگو ہوگی۔اگلے روز وقتِ مقررہ پر انہوں نے گفتگو کرنے سے انکار کر دیا اور کام وغیرہ کا عذر کر کے ٹال دیا۔اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ وہ گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔