تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 798
تاریخ احمدیت۔جلد 24 776 سال 1968ء عیسی علیہ السلام ) کی بجسده العنصر کی آمد ثانی) پر ایمان رکھتے ہیں۔گویا کہ ایک لحاظ سے عیسائی ہی ہیں“ کے الفاظ استعمال کئے۔بے چاری عورت نے قبل از میں جو کچھ میں نے اسے بتایا تھا اس کو اور بالخصوص میرے ان الفاظ کو یاد کر کے کہ ”ہم مسلمان بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے قائل ہیں، مجھے ایک لحاظ سے عیسائی کے طور پر متعارف کرانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی تھی۔لیکن کیا عملاً ایسا نہیں ہے؟ کیا ہم مسلمان بھی ان عیسائیوں کی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے (بجسده العنصری ) دوبارہ آنے پر ایمان نہیں رکھتے ؟ ہمارے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ عیسائیوں کے مشابہ مت بننا۔لیکن ہم نے زیادہ تر شکلی اور سطحی طور پر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد پر صدیوں عمل کیا اور رسم و رواج اور عادات کے لحاظ سے عیسائیوں سے مختلف رویہ اپنانے کی کوشش کرتے رہے مگر حضرت عیسی علیہ السلام کی (بجسده العنصری ) دوبارہ آمد جیسے بے حد خطرناک عقیدہ میں نادانستہ طور پر ان کے ہم آواز بن گئے۔آج پادری صاحب کے ساتھ ایک لحاظ سے عیسائی کے طور پر متعارف کرائے جانے کے دن کو یاد کر کے نیز یہ سوچ کر مجھے سخت افسوس ہوتا ہے کہ اس دن میں اپنے پیارے دین کی حفاظت نہ کر سکا اور کس طرح اس خوبصورت دین کو صحیح رنگ میں پیش نہ کر سکا۔اور کیسے ایک مثالی مسلمان نہ بن سکا لیکن ساتھ ہی آج میں یہ یاد کر کے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وفات پاچکے ہیں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح میدان میں آکر اور یہ اعلان کر کے کہ یاد رکھو کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔یہ دیکھو ان کی قبر یہاں (کشمیر میں ) ہے۔ابدیت صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے، ہمیں نصاریٰ کی مشابہت سے بچالیا ہے۔یہ سب کچھ یاد کر کے اور اس آواز کو میرے کانوں تک پہنچانے والے جناب حق تعالیٰ کو یاد کر کے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے جملہ اہل ایمان بھائیوں کو بھی حقیقی ہدایت نصیب کرے۔آمین۔جتنا عرصہ میں انگلستان میں رہا۔میں اپنے علوم قرآنیہ میں اضافہ کی کوشش کرتا رہا۔سڑکوں پر یسوع اب آنے ہی والا ہے (CHRIST IS RISING NOW) قسم کے گر جا کے نعروں کو دیکھ کر ان نعروں پر ایمان رکھنے والا ایک مسلمان ہونے کے باوجود میرا دل ایک عجیب احساس سے بھر جاتا تھا۔