تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 797
تاریخ احمدیت۔جلد 24 775 سال 1968ء کے مہمان خصوصی ایئر کموڈور مکرم ظفر چوہدری صاحب اسٹیشن کمانڈر پاکستان ایئر فورس سرگودہا تھے جنہوں نے اعزاز پانے والوں میں انعامات تقسیم کئے۔ترکی کے ماجد بے نی جے کی قبول احمدیت ۱۹۶۸ء میں ترکی کے ماجد بے نی ہے (MACIT BENICE) نے قبول احمدیت کا شرف حاصل کیا۔آپ نے ترکی زبان میں اپنے حالات تحریر کئے ہیں جن کا اردوترجمہ جناب ڈاکٹر محمد جلال شمس صاحب نے کیا ہے۔مکرم ماجد بے نی بے تحریر فرماتے ہیں کہ :۔۱۹۶۵ عیسوی کا ذکر ہے میں نے انگلستان کا سفر اختیار کیا۔میں بھی بہت سے مسلمانوں کی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں آکر پچیس سال حکومت کرنے اور اسلام کے راستہ میں جہاد کے ذریعہ حکومت کرنے کا قائل تھا۔ان ایام میں استنبول سے روزانہ شائع ہونے والے ایک اخبار نے قارئین کو قرآن مجید کا ایک ترجمہ تحفہ پیش کیا تھا۔اس میں کلام الہی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ (المائدہ: ۱۱۸) کا ترجمہ اس وقت تک مروج ترجمہ سے ہٹ کر اور مختلف رنگ میں ترکی زبان میں وفات کے لفظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔اور یہ بیان کیا گیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔اس وقت مجھے اس ترجمہ پر سخت افسوس ہوا تھا اور میرا خیال تھا کہ کسی عیسائی پبلشر نے جان بوجھ کر یہ تبدیلی کی ہے۔اسی خیال کے ساتھ میں سفر پر روانہ ہوا۔انگلستان میں جن مذہبی لوگوں سے میری ملاقات ہوئی ان کے ساتھ میرا مباحثہ ہوتا تھا تو وہ کہتے:۔جبکہ آپ لوگ بھی ہماری طرح حضرت عیسی علیہ السلام کی دوبارہ آمد کے قائل ہیں تو اس صورت میں بحث مباحثہ کی کیا ضرورت ہے۔جب حضرت عیسی علیہ السلام آئیں گے تو ہم بھی اور آپ بھی دیکھ لیں گے کہ وہ کونسا عقیدہ پیش کرتے ہیں “۔میں ان کی اس منطق کے سامنے بحیثیت ایک مسلمان کے اپنے آپ کو پورے طور پر مضبوط اور طاقتور محسوس نہیں کرتا تھا۔حتی کہ بعض اوقات مباحثہ میں مجھے شکست خوردہ ہونے کا احساس ہوتا تھا۔ایک دن لیور پول شہر (LIVERPOOL) کے ہوٹن (HUY TON) نامی محلہ کے ایک گرجے میں جانے کے لئے مجھے دعوت دینے والی اور گر جا کی عبادت کے بعد پادری صاحب کے ساتھ میرا تعارف کرانے والی ایک مخلص انگریز عورت نے تعارف کے وقت یہ صاحب ترک ہیں۔حضرت