تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 795
تاریخ احمدیت۔جلد 24 773 سال 1968ء تقسیم انعامات سے قبل محترم (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے مختصر خطاب فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ ہم اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں یہ ٹورنامنٹ منعقد کرنے اور خوشگوار ماحول میں بخیر و خوبی مکمل کرنے کی توفیق عطا کی ہے۔آپ نے باہر سے آنے والے مہمان کھلاڑیوں اور جملہ منتظمین کا بھی شکریہ ادا کیا اور مہمانوں کو پھر ربوہ آنے کی دعوت دیتے ہوئے الوداع کہا۔بعد ازاں محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلی تحریک جدید نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔محمود الخطیب صاحب اُردنی کی تقریر 46 جناب محمود الخطیب صاحب آف اردن کسی نجی کام کے سلسلہ میں پاکستان تشریف لائے تھے۔چونکہ انہیں احمدیت سے لگاؤ تھا۔اس لئے ربوہ کی زیارت کے لئے بھی تشریف لائے۔الجمعیۃ العلمیة کی درخواست پر انہوں نے ۷ اکتوبر ۱۹۶۸ء کو طلبائے جامعہ احمدیہ سے عربی میں خطاب فرمایا جس میں تفصیل سے بتایا کہ کس طرح اسرائیل قائم ہوا اور پھر اس نے طاقت حاصل کی۔نیز بتایا کہ مسلمان باہم متحد ہو کر ہی مقابلہ کر سکتے ہیں۔مسئلہ کشمیر کے بارے میں مقر رموصوف نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک اس مسئلہ میں پہلے بھی پاکستان کی حمایت کرتے رہے ہیں۔اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔کمشنر سرگودھا کا تعلیم الاسلام کالج میں خطاب ۱۴ راکتو بر ۱۹۶۸ء کی شام کو تعلیم الاسلام کالج میں عشرہ ترقیات ( یہ عشرہ ان دنوں سرکاری طور پر ملک بھر میں منایا گیا تھا) کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی مجلس مذاکرہ میں صدارتی تقریر کرتے ہوئے جناب سید قاسم رضوی صاحب کمشنر سرگودھا ڈویژن نے اس امر پر زور دیا کہ ان مادی ترقیات کی رو میں جو گزشتہ دس سال میں حاصل ہوئی ہیں۔ہمیں انسان کی تہذیب و تزئین اور انسانیت کے نشو ونما ارتقا کو کسی حال میں بھی فراموش نہیں ہونے دینا چاہیئے۔کیونکہ سچی خوشی اور خوشحالی محض مادی ترقی کو مطمح نظر بنانے سے نہیں بلکہ اخلاقی اقدار اور انسانیت کے نشو ونما ارتقا کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا اگر ہم مادی لحاظ سے ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ اس ارفع مقصد میں کامیاب ہو