تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 786 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 786

تاریخ احمدیت۔جلد 24 764 سال 1968ء صاحب انیس نے مولانا صلاح الدین احمد صاحب کی یاد میں ایک مشہور کالم نویس انتظار حسین صاحب کا ایک مضمون پڑھ کر سنایا۔بعدہ بزم اردو کے نگران ڈاکٹر ناصر احمد صاحب پروازی نے اردو کو اس کا صحیح مقام دلانے کے متعلق مولانا مرحوم کی خدمات پر اپنا معلومات افروز مقالہ پیش کیا۔جس میں انہوں نے مولانا کی نہایت قابل قدر مساعی اور تعلیم الاسلام کالج سے ان کے خصوصی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا مولانا کی یاد ہر اس شخص کی دھڑکنوں میں شامل ہے جسے اردو اور اردو کے مقام سے دلچسپی ہے۔بعد ازاں پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اے نے اپنے پر مغز مقالہ میں مولانا کے ساتھ اپنی بعض ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے اردو اور اردو ادب کی ترقی کے لئے مولانا کی بے لوث خدمات اور ان کے قابل ستائش کردار پر روشنی ڈالی۔نیز بعض ایسے واقعات بیان کئے جو اس امر کے آئینہ دار تھے کہ وہ اردو کی ترقی کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کی خدمات کے دل سے معترف تھے۔بعد ازاں منور احمد صاحب انیس نے مولانا کے ایک ادبی شاہکار کے طور پر اس خطبہ کا مکمل متن پڑھ کر سنایا جو مولا نا مرحوم نے 9 جون ۱۹۶۳ء کو تعلیم الاسلام کالج کے جلسہ تقسیم اسناد میں پڑھا تھا۔آخر میں اس خصوصی نشست کے صدر پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب نے حاضرین سے خطاب فرما کر مولا نا صلاح الدین احمد مرحوم سے اپنے ذاتی مراسم کا کسی قدر تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا۔اور ان کے قابل ستائش کردار اور اس کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے ثابت کیا کہ مولانا صلاح الدین احمد اردو کے ایک بہت بلند پایہ ادیب ، اس کے ایک عظیم خدمتگار، بہت مخلص، شریف النفس اور کمال درجہ بے خوف ، نڈر اور بے باک انسان تھے۔انہوں نے اردو کو اس کا صحیح مقام دلانے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور پھر اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دکھائی۔(مولا نا صلاح الدین احمد صاحب کی ایک نواسی عاصمہ جہانگیر صاحبہ انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی سطح پر معروف ہیں۔مدراس میں عیسائی کانفرنس اور جماعت احمدیہ مدراس کے وسیع و عریض شہر میں ۳۰ جون ۱۹۶۸ء سے لے کر ایک ماہ تک عیسائی کا نفرنس منعقد ہوئی۔جس میں حضرت یسوع کی آمد ثانی، آخری زمانہ کی علامات، یسوع مسیح کی حقیقت وغیرہ