تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 749 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 749

تاریخ احمدیت۔جلد 24 727 سال 1968ء محمد یسین صاحب سابق محر لنگر خانہ قادیان کا بیان ہے:۔مرحوم اکثر سنایا کرتے تھے کہ جب حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب کو سنگسار کر کے شہید کر دیا گیا تو اسی دن میرے بڑے بھائی کی ڈیوٹی دوسرے کئی سپاہیوں کے ہمراہ حضرت شہید مرحوم کی نعش کی حفاظت پر لگی ہوئی تھی۔ایک وسیع میدان میں حضرت صاحبزادہ کو سنگسار کیا گیا تھا۔اُسی دن شام کے بعد سخت بارش ہونے لگی اور شدید آندھی آگئی۔تمام سپاہی میدان چھوڑ کر قریبی برآمدہ میں چلے گئے۔برآمدہ کے اندر اُس وقت دوسرے سپاہیوں کے ہمراہ میرے بڑے بھائی صاحب نے بھی یہ نظارہ دیکھا کہ ایک بجلی کا ستون حضرت شہید مرحوم کے سر کے اوپر کے پتھر کے ڈھیر سے نکلا ہے اور آسمان کی طرف بلند ہونا شروع ہوا اور اسی طرح کا ایک بجلی کا ستون آسمان کی طرف سے حضرت شہید مرحوم کے سر پر اترنا شروع ہوا۔آخر زمین اور آسمان کے درمیان یہ دونوں بجلی کے ستون مل گئے۔گویا کہ زمین سے آسمان تک بجلی کا ایک بڑا ستون تیار ہو گیا اور اس وقت بہت زیادہ روشنی پھیل گئی۔یہ نظارہ تھوڑی دیر رہا۔مگر اس سے وہاں موجود تمام سپاہیوں کے دل سہم گئے اور وہ بہت ڈر گئے اور کہنے لگ گئے کہ سنگسار کیا جانے والا تو کوئی ولی اللہ اور بزرگ معلوم ہوتا ہے۔خان عبدالاحد خان صاحب کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔جب سید نا حضرت اقدس المصلح الموعود نے دعوۃ الا میر کتاب لکھی تو اس کا اردو مضمون خان صاحب مرحوم ہی حضور سے لا کر حضرت مولوی غلام احمد خان صاحب احمدی آف اوچ شریف کو دیتے تھے۔ان دنوں حضرت مولوی صاحب مہمان خانہ کے ایک خام چوبارہ میں رہائش پذیر تھے۔وہ فارسی میں ترجمہ کرتے تھے۔پھر حضرت مولانا حکیم عبید اللہ صاحب بسمل اس پر نظر ثانی فرماتے تھے۔جب یہ کتاب فارسی میں چھپ گئی تو محترم خان صاحب ہی یہ کتاب لے کر کابل تشریف لے گئے اور محمود طرزی صاحب وزیر خارجہ افغانستان کی خدمت میں پیش کی اور انہوں نے وہ کتاب شاہ کا بل کی خدمت میں پیش کی اور اس کی اطلاع خان صاحب مرحوم کومل گئی۔پھر آپ واپس قادیان تشریف لے آئے۔مرحوم کے پاس اس کتاب کا اردو مستو وہ بطور تبرک عرصہ تک محفوظ رہا۔آپ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔آپ تین سو تیرہ درویشان قادیان میں سے تھے اور قادیان کی مقدس بستی میں جاں جان آفرین کے سپر د کر کے بہشتی مقبرہ قادیان میں سپردخاک ہوئے۔