تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 748 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 748

تاریخ احمدیت۔جلد 24 وو 726 سال 1968ء کے انتقال پر لکھا: ” مرحوم بہت خوبیوں کے مالک تھے۔سلسلہ کے فدائی بزرگ تھے۔اسی سال کی عمر نیکی و تقوی میں بسر کی تبلیغ احمدیت کا انہیں بہت شوق تھا۔ان کے ذریعہ سے متعدد افراد کو احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔شروع میں ڈاکخانہ میں پوسٹل کلرک تھے۔کافی عرصہ تک سرگودھا میں متعین رہے۔مختلف جماعتی عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں۔صدارت اور امارت کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے ہیں اب کافی سالوں سے ملتان میں انصار اللہ کے زعیم اور ناظم ضلع تھے۔انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی کا خاص شغف تھا۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَات پر ہمیشہ عمل پیرار ہے۔ان کی مساعی کی وجہ سے ایک دفعہ مجلس انصار اللہ ملتان کو علم انعامی بھی ملا تھا۔خان عبد الاحد خان صاحب افغان در ولیش وفات: ۳/۲ /اگست ۱۹۶۸ء آپ بہت دعا گو، مخلص اور غیرت مند بزرگ تھے۔افغانستان کے باشندہ تھے۔کابل کے قریب رہائش رکھتے تھے۔بارہ سال کی عمر میں احمدیت سے آگاہی ہوئی اور اپنے ہم عمر خان میر خان صاحب افغان کے ہمراہ پنجاب آئے اور خلافتِ اولی کے زمانہ میں قادیان ایسے وارد ہوئے کہ پھر یہیں کے ہور ہے اور ساری زندگی درویشانہ حالت میں گزار دی۔خاندان سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام بالخصوص حضرت مصلح موعود سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔سالہا سال تک حضرت مصلح موعود کے آنریری پہرہ دار رہے اور بڑی ہوش مندی سے یہ خدمت انجام دیتے رہے حتی کہ چند بار مشکوک افراد کو عین موقعہ پر پکڑ لینے میں بھی کامیاب ہوئے جو قتل کر دینے کے ارادہ سے آئے تھے جنہوں نے پکڑے جانے پر اس امر کا اقرار بھی کیا۔جلسہ سالانہ پر حضرت مصلح موعود کی تقریر کے وقت حضور کے لئے سٹیج پر قہوے اور چائے کا انتظام بھی ان کے سپر د ہوتا جو بہت خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے۔جہیر الصوت اور بات چیت میں خاص افغانی انداز رکھتے تھے۔ایک لمبا عرصہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت ورفاقت میں رہنے اور حضور کی مجلس میں باعث رونق بننے کی سعادت پائی تقسیم ملک کے بعد حضور نے اپنے اس دیرینہ خادم کو ہمیشہ یادرکھا۔انہی ذرہ نوازیوں کا نتیجہ تھا کہ باوجود پیرانہ سالی کے حضور کی خاص توجہ اور کرم فرمائی سے شادی ہو گئی۔مکرم عبد الرحمن صاحب پونچھی کی بیٹی محترمہ خدیجہ بیگم صاحبہ آپ کے نکاح میں آئیں جنہوں نے بڑی سعادت مندی کے ساتھ اپنے شوہر کی آخری وقت تک خدمت کا حق ادا کیا۔100