تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 736
تاریخ احمدیت۔جلد 24 714 سال 1968ء دینا۔تمام دن چشم پر آب رہے۔مغرب کی اذان کے وقت آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔حضرت شاہ صاحب ایک بے مثال داعی الی اللہ تھے جن کے ذریعہ سینکڑوں نہیں ہزاروں نفوس احمدی ہوئے۔سیرت وصورت میں اپنی مثال آپ تھے۔نہایت بارعب اور نورانی چہرہ تھا۔تہجد گزار دعائیں کرنے والے بزرگ تھے۔سلسلہ کیلئے بہت غیرت رکھتے تھے۔کوئی شخص آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے کی جرات نہ کر سکتا تھا۔آپ احمدیت کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔آپ کے تقویٰ کا اثر غیروں پر بھی بہت تھا۔جو شخص بھی آپ سے ملتا گرویدہ ہو جاتا۔قریشی یونس احمد صاحب اسلم درویش قادیان وفات: ۱۵ جون ۱۹۶۸ء 85 آپ ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم (امیر المجاہدین) کے صاحبزادہ اور ماسٹر قریشی حبیب احمد صاحب آف بریلی کے داماد تھے۔آپ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی تحریک پر سب سے پہلے وفد میں جو کہ کراچی سے قادیان حفاظت مرکز کے لئے گیا تھا، میں شامل ہو کر قادیان پہنچے۔پہلے حضور کی سکیم یہ تھی کہ تین تین ماہ کے لئے دوست اپنے نام دیں۔بعد میں یہ سکیم بدل دی گئی۔یونس احمد صاحب پہلے وفد میں ۳ ماہ کے لئے ہی گئے تھے۔وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنے والد صاحب کو لکھا کہ آپ مجھے مستقل طور پر قادیان رہنے کی اجازت دے دیں۔چنانچہ انہوں نے اجازت دے دی۔پھر آپ نے لکھا میں زندگی وقف کرنا چاہتا ہوں ، آپ اجازت دے دیں۔والد صاحب نے کہا میری طرف سے اجازت ہے مگر تم پہلے سوچ لو۔اس راہ میں بڑی مشکلات آئیں گی۔مگر انہوں نے زندگی وقف کر دی اور درویشوں کے ابتدائی مصائب اور مشکلات میں شریک رہے اور شدید مصائب میں بڑے استقلال سے کام کرتے رہے اور ذرہ بھر بھی متزلزل نہ ہوئے۔زمانہ درویشی میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کی طرف سے جس ڈیوٹی پر متعین ہوئے خوب محنت اور تندہی سے کام کیا۔لمبا عرصہ تک دفتر بیت المال قادیان میں خدمت کی۔آخری ایام میں اخبار بدر کے دفتر میں مینیجر مقرر کئے گئے۔آپ کچھ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے مگر اپنی ذاتی قابلیت کے باعث دفتری کاموں کا ایک سلیقہ رکھتے تھے۔جس دفتر میں بھی کام کیا اپنے افسران کو مطمئن رکھا۔کثیر العیال تھے۔اقتصادی حالت بھی اچھی نہ تھی اور صبر آزما مہنگائی کا دور تھا مگر ہمیشہ صابر وشا کر رہتے۔ہر نوع کی جائز تدابیر اختیار کیں مگر خود داری پر آنچ نہیں آنے دی۔