تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 731
تاریخ احمدیت۔جلد 24 709 سال 1968ء ہوئے چلتے رہے جس کا گھر آجاتا حافظ صاحب دروازہ پر دستک دیتے اور اس سے کہتے کہ بھٹی لو ! اپنے گھر میں داخل ہو جاؤ اس طرح حافظ صاحب نے تمھیں کے قریب آدمیوں کو ان کے گھروں میں پہنچا دیا اور ایک جگہ بھی غلطی نہ کی حافظ صاحب کی یہ خوبی دیکھ کر اب بھی مجھے خیال آتا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان میں بہت سی طاقتیں ودیعت کی ہیں انسان ایک طاقت کے ضائع ہونے پر دوسری طاقتوں سے کام لے سکتا ہے۔“ ڈاکٹر سید سفیرالدین بشیر احمد صاحب وفات: ۲۶ مارچ ۱۹۶۸ء بمقام لندن جنوری ۱۹۵۰ء سے جولائی ۱۹۵۶ء تک گولڈ کوسٹ ( گھانا) میں سرگرم عمل رہے اور احمد یہ سیکنڈری سکول میں شاندار خدمات بجالاتے رہے۔ازاں بعد انگلستان تشریف لے آئے اور ایک عرصہ تک مجلس خدام الاحمدیہ لندن کے عہدہ دار رہے۔عیدین کے موقعہ پر فروخت لٹریچر کا کام نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا کرتے تھے۔لندن مشن میں سیمینار کے پروگراموں کا آغاز ہوا تو اس کی نگرانی بھی آپ کے سپرد کی گئی۔آپ انتہائی باقاعدگی سے مشن میں سیمینار کے انعقاد کا اہتمام فرماتے رہے اور یہ سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے پہلے دورۂ انگلستان کے موقعہ پر آپ نے اپنے وقت کا بیشتر حصہ مشن کے سپرد کر دیا۔اس دوران حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ان کے گھر کو بھی برکت بخشی اور دعا سے نوازا۔عبد اللطیف صاحب خوشنویس۔ربوہ وفات: ۴/۳ را پریل ۱۹۶۸ء 78 ہجرت ۱۹۴۷ء کے بعد گھل گھوٹیاں جماعت احمد یہ سیالکوٹ کے سیکرٹری مال رہے پھر ربوہ میں آبسے اور الفضل، تحمیذ الاذہان اور الفرقان کی کتابت کی خدمت بجالاتے رہے۔محلہ دار النصر شرقی میں سیکرٹری امور عامہ تھے اور اس عہدہ پر تادم واپسیں کام کرتے رہے۔نہایت مخلص ، کم گو سلجھی ہوئی 79 طبیعت کے مالک اور منکسر المزاج تھے اور خدمت سلسلہ بجالانے میں راحت محسوس کرتے تھے۔مرحوم کی نماز جنازہ حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے مورخہ ۴ را پریل ۱۹۶۸ء بعد نماز ظہر پڑھائی۔آپ موصی تھے۔بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔