تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 706
تاریخ احمدیت۔جلد 24 684 سال 1968ء ہے کہ میں نے کمرہ بند کر کے دعا مانگی کہ اے الہی ! تو مجھے اپنے رحم خاص سے میری خواہش کے مطابق قادیان لے آیا ہے اب ایک اور نظر رحم کر کہ مجھے کسی کے در پر رزق اور ملازمت وغیرہ کیلئے جانا نہ پڑے۔حتی کہ خلیفہ کے در بھی نہ لے جائیو۔اور اپنے فضل سے میرے رزق کے سامان کر یو۔دعا کے بعد میں نے کمرے کا دروزہ کھولا تو ایک احمدی بھائی کو کھڑا پایا جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی چٹھی لائے تھے۔جس میں مرقوم تھا کہ آپ مجھے کسی وقت آکر ملیں۔میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات ڈالی کہ یہ قبولیت دعا کا نشان ہے۔ملاقات میں آپ نے فرمایا کہ میں احمد آباد سنڈیکیٹ کا سیکرٹری ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے دفتر میں کام کریں۔میں نے خوشی اور شکریہ کے ساتھ تعمیل ارشاد کی۔مجھے علاوہ پنشن کے تمیں روپے ماہوار الاؤنس ملنے لگا۔نیز مجھے احمد یہ سٹور کا مینیجر مقرر کیا گیا اور پندرہ روپے الاؤنس مقرر ہوا اور مجھے اتنی ہی آمدنی ہونے لگی جتنی پنشن سے پہلے تھی۔الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے دعا سن کر میری دستگیری فرمائی۔احمد آبادسنڈیکیٹ میں ۱۹۳۶ء اور چند ماہ ۱۹۳۷ء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ماتحت اور پھر جنوری ۱۹۴۱ ء تک محترم خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے ماتحت میں نے کام کیا۔حضرت میاں صاحب نے آکر کبھی ایک لفافہ بھی ذاتی طور پر کسی کے نام لکھا تو اپنے پاس سے ڈاک خرچ دیا اور اپنا حساب اتنا پاک صاف رکھا کہ مجھے اس پاکیزگی کا علم ہو کر بے حد خوشی ہوئی۔اور کیوں نہ ہو آخر کس کے صاحبزادہ تھے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سبحان اللہ ! فروری ۱۹۴۱ء میں محترم مرزا محمد شفیع صاحب محاسب صد را انجمن احمدیہ نے بطور نگران افسر امانت مجھے لگانا چاہا۔لیکن ۱۹۴۲ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مجھے علاقہ ناگپور میں پنڈھورنا مقام پر بھجوا دیا۔پھر ۱۹۵۰ء میں مجھے افسر امانت بنا دیا گیا۔اس وقت مکرم مرزا عبد الغنی صاحب مرحوم محاسب تھے۔چونکہ آنکھوں میں موتیا اتر رہا تھا اس لئے ۱۹۵۰ء میں ہی درخواست دے کر میں نے فراغت حاصل کر لی اور چنیوٹ میں خانہ نشین ہو گیا۔گویا ۱۹۳۶ء سے ۱۹۵۰ء تک خدمت کی توفیق پائی۔“ 51 آپ خلفاء احمد بیت اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عاشقانہ تعلق رکھتے تھے۔آپ کا اور آپ کی اہلیہ کا نام منارة امسیح پر کندہ ہے۔صدر انجمن احمدیہ کی سالانہ رپورٹ ۲۰-۱۹۱۹ء سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے طلباء مدرسہ احمدیہ کے لئے فنڈ میں حصہ لیا۔آپ کو تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شمولیت کا اعزاز بھی حاصل تھا۔