تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 689 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 689

تاریخ احمدیت۔جلد 24 667 سال 1968ء سہولت کے لئے ایسے سامان پیدا کر دئے کہ تھوڑے عرصہ بعد جب آپ ریٹائر ہوئے تو جتنی تنخواہ آپ لیتے رہے تھے اتنی ہی پنشن مقرر ہو گئی۔اس پر آپ نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا لیکن اپنی قلیل تنخواہ ہونے کا اظہار کبھی نہ کرتے تھے۔اپنے جائز حق کے حصول کے لئے بھی اپنی زبان کھولنا گوارا نہ کرتے تھے۔“ 26 حضرت مولوی فضل الدین صاحب حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی کے داماد اور حضرت خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے ہم زلف تھے۔حضرت شیخ محمد دین صاحب سابق مختار عام صدرانجمن احمد یہ تحریر فرماتے ہیں:۔مکرم مولوی صاحب مرحوم احمدیت کے لئے خاص غیرت، محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔مطالعہ کا بڑا شوق تھا۔غیر معمولی دماغ کے مالک تھے۔کسی چیز کی تہہ تک پہنچنے کا ان کو فطرتی ملکہ حاصل تھا۔گوقوت بیانیہ زیادہ نہ تھی مگر اپنے مافی الضمیر کو احاطہ تحریر میں لانے کی ان میں بدرجہ اتم استعداداور قابلیت موجود تھی۔جماعت میں ان کو ایک عالم اور محقق کی حیثیت بھی حاصل تھی۔مکرم مولوی صاحب مرحوم طویل عرصہ تک صدر انجمن احمدیہ کے مشیر قانونی رہے ہیں اور خاکسار انجمن کا مختار عام تھا۔اس لئے مکرم مولوی صاحب اور خاکسار کا تعلق چولی دامن کا تھا۔صدر انجمن کے اکثر مقدمات و تنازعات میں مکرم مولوی صاحب اپنی قانونی رائے پیش کرتے اور اس کے لئے ضروری مواد جمع کرتے تھے۔مقدمہ کے مالہ وما علیہ اور جملہ مواد انتہائی محنت سے تیار کرتے تھے۔بعض اہم مقدمات میں مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور، مکرم مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ اور مکرم شیخ ارشد علی صاحب ایڈووکیٹ سیالکوٹ صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے مقدمات کی پیروی کیا کرتے تھے اور مشیر قانونی کی حیثیت سے کیس کے لئے جملہ مواد مہیا کرنا مکرم مولوی صاحب مرحوم کے سپرد ہوتا تھا۔مندرجہ بالا وکلاء صاحبان مولوی صاحب مرحوم کے تیار کردہ مواد اور ریکارڈ سے استفادہ کر کے عدالت میں بحث کیا کرتے تھے۔مقدمات کے مواد اور ریکارڈ کے تیار کرنے میں خاکسار بھی مولوی صاحب کی مدد کیا کرتا تھا۔میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے مکرم مولوی صاحب کو بہت ہی محنتی انتھک اور وفادار خادم سلسلہ پایا۔مرحوم مقدمات کا تاریخی مواد اور اس سلسلہ میں تمام مسلوں کا گہری نظر سے مطالعہ کرتے تھے۔مطالعہ اور ورق گردانی کرتے وقت مکرم مولوی صاحب کو بہت ہی انہماک ہوتا تھا۔