تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 671 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 671

تاریخ احمدیت۔جلد 24 649 سال 1968ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابہ کرام کا انتقال سال ۱۹۶۸ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعدد صحابہ کرام رحلت فرما گئے جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے:۔حضرت مولوی حکیم نظام الدین صاحب آف بیگم کوٹ مبلغ کشمیر ولادت: قریباً ۱۸۸۷ء تحریری بیعت : ۱۹۰۲ء زیارت و دستی بیعت : اگست ۱۹۰۳ء وفات : ۷ جنوری ۱۹۶۸ء آپ کے والد کا نام عبد الکریم تھا جو کہ آپ کی صغرسنی میں ہی وفات پاگئے تھے۔حضرت حکیم صاحب اپنے قبول احمدیت کے واقعات تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔میں موضع کھیر انوالی متصل کپورتھلہ کا رہنے والا ہوں۔میرے استاد صاحب جو قریب کے گاؤں کے تھے وہ کھیر انوالہ کے سکول میں مدرس تھے۔میں ان کے پاس ابتدائی جماعتوں میں پڑھا کرتا تھا اور وہ عموماً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہتے تھے۔میں ان کے پاس بیٹھ کر حضرت صاحب کی کچھ کچھ باتیں سنتا رہتا تھا۔انہی دنوں میں انہوں نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچے ہیں۔ان کی بیعت کر لینی چاہیئے۔آپ نے بیعت کا خط لکھ دیا۔ان کا نام مولوی عبداللہ صاحب تھا۔اور اس خط میں ایک دوسرے صاحب جن کا نام میاں مہتاب الدین تھا اور پہلے وہ اہل حدیث تھے ، ان کا نام اور میرا نام بھی لکھ دیا۔میرے استاد نے مجھے فرمایا کہ احوال الآخرۃ میں جو یہ شعر ہے ”بولن لگا اڑ کے بولے، پٹاں تے ہتھ مارے“ یاد کر لیں اور جب قادیان چلیں گے تو آپ اسی بات کو دیکھتے رہیں۔فرصت کے وقت ہم جب تینوں قادیان آئے تو میں راستہ میں اس مصرعہ کو بار بار یاد کرتا رہا۔قادیان میں دس یا پندرہ دن ہم رہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز عصر کے بعد تشریف رکھتے تو میں آپ کے چہرہ اور آپ کے جسم کی طرف اچھی طرح دیکھتا رہتا اور مندرجہ بالا مصرعہ میرے دماغ میں ہوتا۔میں بڑے غور سے دیکھتا کہ حضور جب بولتے تو خفیف سی بولنے میں روک معلوم ہوتی۔سرسری طور پر کوئی اس روک کو محسوس نہ کرتا اور جب بولتے تو ساتھ ہی آپ کا دایاں ہاتھ جوران پر ہوتا تھاوہ خفیف سی حرکت کرتا تھا۔