تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 664
تاریخ احمدیت۔جلد 24 642 سال 1968ء ناصر احمد نے کہا کہ دنیا کی نجات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور قرآن مجید کے مسلمہ اصولوں پر عمل کرنے میں ہے۔نوائے وقت لاہور ۲۹ دسمبر ۱۹۶۸ ء نے صفحہ آخر پر لکھا:۔ر بوه ۲۸ دسمبر۔گزشتہ روز احمدیوں کی ۷۷ ویں سالانہ کانفرنس میں ہیں غیر ملکی زبانوں میں قرآن شریف کے ترجموں کی ایک نمائش کی گئی۔ان میں روسی ، فرانسیسی ، ہسپانوی، جرمن اور ڈچ زبان کے ترجمے بھی شامل ہیں۔نمائش کے افتتاح کے بعد غیر ممالک میں پچاس زبانوں میں تبلیغی سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کی گئیں اور بتایا گیا کہ جماعت غیر ممالک میں پچاس زبانوں میں تبلیغ کا کام کر رہی ہے۔کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کیلئے کوئٹہ، کراچی، لاہور، راولپنڈی، سیالکوٹ اور گجرات سے میں پیشل ٹرینیں چلائی گئیں اور یہ پہلا موقعہ تھا کہ کا نفرنس میں پی۔آئی۔اے نے بھی بلنگ کے لئے کیمپ آفس قائم کیا۔ایک اندازے کے مطابق اب تک ایک لاکھ احمدی ربوہ پہنچ چکے ہیں۔روزنامہ نوائے وقت لاہور ۳۰ دسمبر ۱۹۶۸ ء نے صفحہ آخر پر لکھا:۔ربوہ ۲۹ دسمبر۔احمد یہ جماعت کی ۷۷ ویں سالانہ کا نفرنس جس میں پاکستان اور غیر ممالک سے تقریباً ایک لاکھ افراد نے شرکت کی، گزشتہ روز ختم ہوگئی۔آخری اجلاس میں جماعت احمدیہ کے سر براہ حافظ ناصر احمد نے اپنی تقریر میں وضاحت کی کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کس اعلیٰ ترین روحانیت کے حامل تھے۔آپ نے قرآن مجید اور احادیث کے کئی حوالے دیئے اور کہا کہ کائنات کی تخلیق کا مقصد ہی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور تھا۔جنہیں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیاز دیا گیا۔یہ حضور ﷺ ہی کا خاص امتیاز تھا۔ان پر ام الکتاب قرآن مجید نازل ہوا جو تا حشر ہدایت کا سر چشمہ رہے گا۔آپ نے کہا قرآن کریم کے ارشادات ہی سے آنحضرت ﷺ نے خدا کی حقیقی بزرگی کا صحیح احساس دلایا اور نوع انسان کو تمام اعلیٰ انسانی قدریں سکھلائیں۔مرزا ناصر احمد نے کہا کہ دنیا میں تمام پیغمبروں کا نزول بھی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی وجہ سے تھا۔حضور علیہ الصلواۃ والسلام کا ظہور مسلمانوں کے لئے تا قیامت ایک مسلسل عید بنا رہے گا۔آپ نے اخیر میں آزادی کشمیر اور پاکستان کے اتحاد و استحکام کے لئے دعا کی اور کہا کہ اگر خدانخواستہ اس موقعہ پر پاکستان کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو وہ ساری دنیائے اسلام کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوگا۔