تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 655 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 655

تاریخ احمدیت۔جلد 24 633 سال 1968ء جلسہ گاہ کی توسیع خدمت کا یہ جذبہ اس قدر تھا کہ آپ میں سے اکثر کو ( گو بہتوں کو نہیں ) یاد ہوگا کہ ایک دفعہ جلسہ گاہ چھوٹی اور تنگ ہوگئی تھی اور حضرت مصلح موعود شدید ناراض ہوئے تھے۔لوگ جلسہ گاہ میں سمانہیں سکتے تھے۔قادیان میں جلسہ گاہ کے چاروں طرف گیلریاں بنی ہوتی تھیں ان پر لوگ بیٹھتے تھے۔اینٹوں کی سیڑھیاں سی بنا کران پر لکڑی کی شہتیر یاں رکھی جاتی تھیں۔بہر حال اس سال جلسہ گاہ چھوٹی ہو گئی تھی اور حضرت مصلح موعود بہت ناراض ہوئے۔تمام کارکن بڑے شرمندہ پریشان اور تکلیف میں تھے۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ اگر ہم ہمت کریں تو اس جلسہ گاہ کو راتوں رات بڑھا سکتے ہیں۔لیکن میری عمر بہت چھوٹی تھی اس لئے میں نے خیال کیا کہ میری اس رائے میں کوئی وزن نہیں ہوگا۔ہمارے ماموں سید محمود اللہ شاہ صاحب بھی دفتر میں کام کرتے تھے میں نے انہیں کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم ہمت کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم راتوں رات میں جلسہ گاہ کو بڑھا دیں گے۔آپ ماموں جان ( حضرت میر محمد الحق صاحب افسر جلسہ سالانہ ) کے سامنے یہ تجویز پیش کریں۔وہ کہنے لگے یہ خیال تمہیں آیا ہے اس لئے تم ہی یہ بات پیش کرو۔مجھے یاد ہے کہ میری طبیعت میں یہ احساس تھا کہ چھوٹی عمر کی وجہ سے میری رائے کا وزن نہیں ہو گا لیکن یہ کام ضرور کرنا چاہئے۔ماموں جان سید محمود اللہ شاہ صاحب کو خیال تھا کہ چونکہ یہ خیال مجھے نہیں آیا اس کو آیا ہے اس لئے اس کا کریڈٹ میں کیوں لوں۔لیکن میں نے کہا میں نے یہ بات پیش نہیں کرنی آپ ہی کریں اور ضرور کریں۔میں نے کچھ لاڈ اور پیار سے ان کو منالیا۔چنانچہ انہوں نے یہ تجویز پیش کی۔حضرت ماموں جان ( حضرت میر محمد الحق صاحب نے دوستوں کو مشورہ کے لئے جمع کیا اور بالآخر یہ رائے پاس ہو گئی۔اور سارا دن کام کرنے کے بعد سینکڑوں رضا کاروں نے ساری رات کام کیا۔ریتی چھلہ سے شہتیر یاں اٹھا کر جلسہ گاہ میں لے گئے جو ہمارے کالج کی عمارت (جس میں پہلے ہائی سکول ہوتا تھا) کے پاس تھی۔ایک طرف کی ساری سیڑھیاں جو اینٹوں کی بنی ہوئی تھیں توڑی گئیں اور دوسری سیڑھیاں بنائی گئیں۔