تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 49
تاریخ احمدیت۔جلد 24 49 سال 1967ء پس میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو میری توجہ کو اس طرف پھیرا۔خدا یہ چاہتا ہے کہ قوم کے بزرگ بھی اور قوم کے نوجوان بھی ، قوم کے مرد بھی اور قوم کی عورتیں بھی اس حکمت الہی کو سمجھنے لگیں جس حکمت الہی کا تعلق خانہ کعبہ کی بنیاد سے ہے تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اولو الا لباب ٹھہریں اور اس کی آواز کو اور اس کے احکام کو اور احکام کی حکمتوں کو سمجھنے کے قابل ہو جائیں اور ان قدوسیوں کے گروہ میں شامل ہوں کہ جن پر اللہ تعالیٰ کے ہر آن فضل ہوتے رہتے ہیں۔6 قادیان میں عیدالاضحیہ پر غیر مسلم معززین کی دعوت مورخہ ۱۸ اپریل ۱۹۶۷ء بعد نماز عصر نظارت امور عامه قادیان کی جانب سے غیر مسلم معززین کو احمد یہ محلہ میں چائے پر مدعو کیا گیا۔اس دعوت میں سردارستنام سنگھ صاحب باجوہ ڈپٹی منسٹر پنجاب مہمان خصوصی تھے۔ان کے علاوہ یکصد مقامی غیر مسلم معززین بھی شریک ہوئے۔آنریبل باجوہ صاحب کی تشریف آوری پر حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب فاضل ناظر اعلیٰ اور محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے آپ کا خیر مقدم کیا۔بعدہ جملہ معززین نصرت گرلز سکول کی بلڈنگ میں تشریف لے گئے جہاں ٹی پارٹی کا انتظام تھا۔تمام معزز مہمانوں کی چائے اور مٹھائی سے تواضع کی گئی بعدۂ استقبالیہ دیا گیا۔مکرم چوہدری مبارک علی صاحب ایڈیشنل ناظر امور عامہ نے خطبہ استقبالیہ پڑھا۔پھر اس ایڈریس کا جواب محترم ستنام سنگھ صاحب نے دیا اور فرمایا سیاسی جماعتوں میں حالات کے مطابق اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے لیکن جماعت احمدیہ کے ساتھ میرے تعلقات برادرانہ ہیں۔سیاست ان پر غالب نہیں آسکتی۔تقریب کے اختتام پر حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب فاضل نے جماعت احمدیہ کی طرف سے تمام مہمانوں کا شکر یہ ادا کیا۔مانانوالہ لا سکور کی احمد یہ مسجد کی شہادت ۱۹ اپریل ۱۹۶۷ء کو قریباً ۸ بجے شب چک ۲۰۳ ر ب مانا نوالہ تحصیل و ضلع لائلپور میں جماعت احمدیہ کی مسجد کو جو دو تین سال سے احمدیوں کے رہائشی احاطہ کے اندر تعمیر شدہ تھی غیر احمدیوں نے گرادیا۔ایک عرصہ سے غیر احمدی مولوی مسمی محمد مشتاق لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ اپنی تقریروں اور خطبات میں عوام کو جماعت احمدیہ کے خلاف بھڑکا تا اور احمدیوں کے خلاف جو قلیل