تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 649
تاریخ احمدیت۔جلد 24 627 سال 1968ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کے لئے کمرے پیش کرنے کی تحریک حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ۲۹ نومبر ۱۹۶۸ء کواہل ربوہ کوتحریک کی کہ وہ جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کی خدمت کیلئے رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کریں نیز تحریک فرمائی کہ وہ اپنے مکانات کا ایک حصہ بھی حسب دستور مہمانوں کی رہائش کیلئے مخصوص کر دیں۔چنانچہ فرمایا :۔ربوہ کے قریباً ہر گھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان ٹھہرتے ہیں۔اور جن گھروں میں رشتہ دار یا دوست یا واقف یا ان واقفوں کے واقف آکر ٹھہرتے ہیں۔گھر والے ان کے لئے اپنے گھر کے بعض کمرے یا کمروں کے بعض حصے خالی کرتے ہیں۔اور پھر ان کا خیال رکھتے ہیں کہ انہیں کوئی تکلیف نہ ہو۔اور اسی طرح وه يُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا کے مطابق خفیہ طور پر خدا تعالیٰ کے حضور قربانی دے رہے ہیں۔جماعت کو اس کا کوئی علم نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ ان کو بہت جزا دے۔کیونکہ یہ بھی بڑی قربانی ہے جو ربوہ کے مکین خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کرتے ہیں۔اور بڑی بشاشت سے پیش کرتے ہیں۔لیکن ہمیں صرف سراً یعنی خفیہ طور پر ہی خرچ کرنے کا حکم نہیں ملا بلکہ علامیہ خرچ کرنے کا حکم بھی ہے۔اس لئے اگر اور جہاں تک ممکن ہو سکے جلسہ سالانہ کے انتظامات کے لئے اپنے گھروں کے بعض حصوں کو خالی کروتا کہ يُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا ہی پر آپ ٹھہر نہ جائیں بلکہ علانیہ طور پر خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والوں میں شامل ہو جائیں۔تا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی کامل نعمتوں کے وارث بنیں۔جلسہ سالانہ کے دنوں میں یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص کے پاس دو کمرے ہیں تو وہ اور اس کی بیوی اور اس کے پانچ یا سات بچے ایک ہی کمرہ میں سمٹ سمٹا کر زمین پر سونے لگ جاتے ہیں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دار مسیح ( قادیان) بہت بڑی حویلی ہے لیکن جلسہ سالانہ کے دنوں میں حضرت اماں جان (جن کے پاس میں رہا اور جنہوں نے میری پرورش اور تربیت کی ) اکثر اوقات ضرورت کے وقت ہمیں زمین پر سلا دیتی تھیں۔اور اس میں ہمیں بہت خوشی ہوتی تھی ہمیں ایک مزہ آتا تھا۔پانچ سات سال کی عمر میں اصل روحانی