تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 648
تاریخ احمدیت۔جلد 24 626 سال 1968ء کاروبار میں کلیۂ سود سے دامن بچا سکے لیکن اب کمپنی اور پالیسی ہولڈر کے درمیان ایسا معاہدہ ہونا ممکن ہے جو سود اور قمار بازی کے عناصر سے پاک ہو اس لئے ایسی بیمہ کمپنیوں سے جو امداد باہمی کے اصول پر قائم ہوں اور پالیسی ہولڈرز سے یہ معاہدہ کرنے پر آمادہ ہوں کہ وہ نفع و نقصان میں شریک ہوگا بیمہ کا معاہدہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ یہ معاہدہ اپنی ذات میں سود کی شرائط کا حامل نہ ہو۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفۃ امسح الثانی کے ارشادات درج ذیل ہیں:۔(۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انشورنس اور بیمہ کے سوال پر فرمایا:۔وو سود اور قمار بازی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے۔قمار بازی میں ذمہ واری نہیں ہوتی۔دنیا کے کاروبار 66 میں ذمہ داری کی ضرورت ہے“۔(۲) حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا:۔اگر کوئی کمپنی یہ شرط کرے کہ بیمہ کرانے والا کمپنی کے فائدہ اور نقصان میں شامل ہوگا تو پھر بیمہ کرانا جائز ہوسکتا ہے۔(دستخط ) مرزا ناصراحمدخلیفہ امسح الثالث ضروری اعلان منجانب سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث " 146 مجلس افتاء کا بیمہ سے متعلق تازہ فتویٰ افراد جماعت کو اس بات کا مجاز نہیں بنا تا کہ وہ از خوداس امر کا فیصلہ کریں کہ کونسی کمپنی نفع و نقصان میں شامل کرتی ہے اور کن شرائط کے ساتھ کوئی معاہدہ سودی یا غیر سودی قرار دیا جا سکتا ہے۔لہذا میں درج ذیل ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کرتا ہوں۔(۱) مکرم ملک سیف الرحمن صاحب صدر (۲) مکرم ابوالعطاء صاحب۔(۳) مکرم مرزا طاہر احمد صاحب۔جو احباب بعض مجبوریوں کی بناء پر بیمہ کروانے کے خواہشمند ہوں ان کا فرض ہو گا کہ مجوزہ معاہدات کی تفاصیل سے کمیٹی کو آگاہ کر کے اس کی منظوری حاصل کر لیں۔(مرزا ناصر احمد ) خلیفة المسیح الثالث 147