تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 647 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 647

تاریخ احمدیت۔جلد 24 625 سال 1968ء ۱۹۶۸ء کو قادیان سے دہلی تشریف لائے۔دوران قیام دہلی بعض اہم ملاقاتیں آپ نے کیں۔سب سے پہلے آپ سے ڈاکٹر ناصرالدین صاحب ملاقات کے لئے تشریف لائے۔زاں بعد ویسٹ نظام الدین سے مسٹر چوہدری اپنے بچے انیل کے ساتھ ملاقات کے لئے تشریف لائیں۔۱۰ نومبر کو آپ سے گھانا سفارت خانہ کے سیکنڈ سیکرٹری محترم کنجو احمد کیونو مع اپنی اہلیہ ملاقات کے لئے تشریف لائے۔اسی روز شام ۴ بجے احباب جماعت دہلی ملاقات کے لئے تشریف لائے اور محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی زیر صدارت ایک تربیتی جلسہ منعقد ہوا۔اس کے علاوہ آپ نے راشٹرپتی بھارت جناب ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب سے ملاقات کی۔آپ کی خدمت میں جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع شدہ تمہیں کے قریب کتب پیش کی گئیں۔مورخہ ۱۲ نومبر کو صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے جناب حکیم عبدالحمید متولی ہمدرد دواخانہ سے ملاقات کی۔حکیم صاحب سے ملاقات کے بعد چیف ایڈیٹر لجمیعتہ محترم محمد عثمان صاحب فارقلیط سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ان ملاقاتوں سے فارغ ہو کر آپ کی روانگی قادیان کے لئے ہوئی۔فیصلہ مسئلہ انشورنس اور ایک ضروری اعلان اخبار الفضل ۲۳ نومبر ۱۹۶۸ء کے صفحہ اول پر مجلس افتاء کی طرف سے مسئلہ انشورنس سے متعلق ایک فیصلہ سپر داشاعت ہوا جس کے ساتھ سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی طرف سے ایک ضروری اعلان بھی شائع کیا گیا۔فیصلہ مسئلہ انشورنس اور ضروری اعلان حسب ذیل تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے فتاوی ( جن میں سے متعلقہ دو اقتباس ذیل میں درج ہیں ) کے مطابق جب تک معاہدات ، سود اور قمار بازی سے پاک نہ ہوں۔بیمہ کمپنیوں سے کسی قسم کا بیمہ کرانا جائز نہیں ہے۔یہ فتاویٰ مستقل نوعیت کے اور غیر متبدل ہیں۔البتہ وقتا فوقتاً اس امر کی چھان بین ہو سکتی ہے کہ بیمہ کمپنیاں اپنے بدلے ہوئے قوانین اور طریق کار کے نتیجہ میں قمار بازی اور سود کے عناصر سے کس حد تک مبر اہو چکی ہیں۔مجلس افتاء نے اسی پہلو سے بیمہ کمپنیوں کے طریق کار پر نظر کی ہے اور اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ اگر چہ رائج الوقت عالمی مالیاتی نظام کی وجہ سے کسی کمپنی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے