تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 48
تاریخ احمدیت۔جلد 24 48 سال 1967ء مقاصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جرى الله في حُلل الانبیاء کی شکل میں دنیا کی طرف مبعوث فرمایا۔اور جن مقاصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو قائم کیا ہے۔پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری توجہ اس طرف پھیری کہ اس گروہ کی تربیت کے لئے جو طریق اختیار کرنے چاہئیں، ان کا بیان ان آیات میں ہے۔جن کے اوپر میں خطبات دیتا رہا ہوں اور اگر ان مقاصد کو صحیح طور پر سمجھ لیا جائے اور ان کے حصول کی کوشش کی جائے تو خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ہماری یہ پود صحیح رنگ میں تربیت حاصل کر کے وہ ذمہ داریاں نباہ سکے گی جو ذمہ داریاں عنقریب اُن کے کندھوں پر پڑنے والی ہیں۔کیونکہ میری توجہ کو اس طرف پھیرا گیا تھا کہ آئندہ ہمیں پچیس سال اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے بڑے ہی اہم اور انقلابی ہیں۔اور اسلام کے غلبہ کے بڑے سامان اس زمانہ میں پیدا کئے جائیں گے اور دنیا کثرت سے اسلام میں داخل ہوگی یا اسلام کی طرف متوجہ ہو رہی ہوگی۔اس وقت کثرت کے ساتھ اُن میں مربی اور معلم چاہئیے ہوں گے۔وہ معلم اور مربی جماعت کہاں سے لائے گی، اگر آج اس کی فکر نہ کی گئی۔اس لئے اس کی فکر کرو اور ان مقاصد کو سامنے رکھو جوان آیات میں بیان ہوئے ہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لئے جس رنگ کی تربیت کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے کلام پاک کی روشنی میں اس قسم کی تربیت اپنے نوجوانوں کو دو تا جب وقت آئے تو بڑی کثرت سے اُن میں سے اسلام کے لئے بطور مربی اور معلم کے زندگیاں وقف کرنے والے موجود ہوں تا وہ مقصد پورا ہو جائے کہ تمام بنی نوع انسان کو علی دین واحد جمع کر دیا جائے گا۔“ ان خطبات کے دوران ایک بزرگ نے مجھے لکھا کہ آپ کے جو خطبات ہورہے ہیں ان کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک الہام سے بھی ہے، جو تذکرہ کے صفحہ ۸۰۱ پر درج ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں:۔"جو شخص کعبہ کی بنیاد کو ایک حکمت الہی کا مسئلہ سمجھتا ہے۔وہ بڑا انقلمند ہے کیونکہ اس کو اسرار ملکوتی سے حصہ ہے۔“۔