تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 637
تاریخ احمدیت۔جلد 24 615 سال 1968ء اور اعجازی نشان خاص عظمت و اہمیت کا حامل ہے جس کی تفصیل صادقہ مقصود حید ر صاحبہ، لندن کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے۔آپ تحریر فرماتی ہیں کہ :۔عاجزہ ایک لمبے عرصہ سے ایسے عوارض میں مبتلا تھی کہ لندن کے ماہر ترین ڈاکٹروں کے غور وفکر اور علاج کے باوجود مرض سے چھٹکارا حاصل نہ کر سکی۔گزشتہ سال جب حضرت خلیفہ المسیح الثالث لندن تشریف لائے اس وقت بیماری اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔پیٹ کے سات آپریشن ہو چکے تھے جن میں سے دو بڑے اور پانچ چھوٹے تھے۔ہر آپریشن کے بعد ڈاکٹر کا خیال ہوتا تھا کہ یہ آپریشن کامیاب رہے گا اور اس کے بعد ہونے والا بچہ یا تو اپنے وقت پر پیدا ہو کر زندہ رہے گا یا پھر وہ مرض جس کی تکلیف تھی وہ ختم ہو جائے گی لیکن ہر آپریشن کے بعد یہ امید کم ہوتی گئی۔پانچ سال کے بار بار آپریشن اور بے شمار مختلف علاج معالجوں کے بعد ایک دن میں حسب معمول اسپیشلسٹ لیڈی ڈاکٹر کے پاس ہسپتال گئی جو میرے علاج میں شریک رہی تھی اس نے کہا مسٹر حیدر آج میں مختلف علاج ٹیسٹ اور ایکسرے کے بعد جو کچھ تمہیں بتلانا چاہتی ہوں مجھے افسوس ہے کہ وہ تمہارے لئے بہت رنج و غم کا باعث ہوگا۔میری آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں۔وہ مجھے تسلی دینے کی کوشش کرتی رہی لیکن ساتھ ہی بار بار یہ بات بھی کہتی تھی کہ کاش میں تمہاری مدد کر سکتی۔ہمارے ڈاکٹروں کے بورڈ کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ ہم آپ کے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔ان الفاظ سے میری بچیکی بندھ گئی۔میں حیران تھی کہ یہ دنیا کے قابل ترین ڈاکٹر اس طرح کا مایوس کن جواب دے رہے ہیں اور ان کی تمام سمجھ بوجھ اور سائنس کی موجودہ ترقی میرے لئے بے کار ثابت ہو رہی ہے لیکن مشیت ایزدی کسی اور رنگ میں اپنی شان دکھانا چاہتی تھی۔چند منٹ کی نہایت تکلیف دہ اضطراری کیفیت کے بعد ڈاکٹر نے اپنا فیصلہ واضح الفاظ میں بیان کیا اور کہنے لگی کہ تمہارے اندر کے اعضاء جل کر سیاہ ہو چکے ہیں اور بعض ٹیوب بلاک ہو چکی ہیں۔جس کی وجہ سے آئندہ بچہ حاصل کرنے کی تگ و دو برکار ہوگی۔میں نے ہمت کر کے پھر سوال کیا کہ کیا کسی مزید آپریشن سے ٹیوب کھولی جاسکتی ہیں؟ اس پر وہ حیران رہ گئی اور کہنے لگی کیا تم اپنی جان خطرہ میں ڈال کر پیسٹ کے تیسرے بڑے آپریشن کے لئے بھی تیار ہو؟ میں نے اس کا جواب بغیر سوچے سمجھے دے دیا کہ ہاں تیار ہوں۔وہ کہنے لگی کیا تم ایسی صورت میں بھی تیار ہو جبکہ ہم تمہیں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ تیسرے آپریشن کے بعد بھی شاید تم بچہ حاصل نہ کرسکو کیونکہ تمہارا ایکسرے صاف ظاہر کرتا ہے کہ ایک ٹیوب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور دوسری قریب الاختتام ہے۔میں نے کہا کہ میں