تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 636
تاریخ احمدیت۔جلد 24 614 سال 1968ء قائم رکھنا چاہتے ہو اور روحانیت میں ترقی کرنا چاہتے ہو تو خلیفہ وقت کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا کیونکہ اگر یہ دامن چھوٹا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن چھوٹ جائے گا کیونکہ خلیفہ وقت اپنی ذات میں کوئی شے نہیں اسے جو مقام بھی حاصل ہے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا مقام ہے نہ اس میں اپنی کوئی طاقت نہ اس میں اپنا کوئی علم۔پس اس شخص کو نہ دیکھو اس کرسی کو دیکھو جس پر خدا اور اس کے رسول اللہ نے اس شخص کو بٹھا دیا ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے جس خلافت راشدہ کے وقت میں جتنے زیادہ خلفاء اس دوسرے سلسلہ کے ہوں گے یعنی سلسلہ خلافت آئمہ کے جو مضبوطی کے ساتھ اس کے دامن کو پکڑے ہوئے ہوں گے اور جن کے سینہ میں وہی دل جو خلیفہ وقت کے سینہ میں دھڑک رہا ہے دھڑک رہا ہو گا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ ان کو طاقت بخشتی رہے گی۔آپ ے کے روحانی فیوض سے وہ حصہ لیتے رہیں گے اتنا ہی زیادہ اسلام ترقی کرتا چلا جائے گا اور دنیا میں غالب آتا چلا جائے گا اور غالب رہتا چلا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے انعامات اور اس کے فضلوں کو انسان حاصل کرتا چلا جائے گا لیکن جو شخص خلافتِ راشدہ کے دامن کو چھوڑتا اور خلافتِ راشدہ کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس شخص پر خدا تعالیٰ اپنی حقارت کی نظر ڈالتا ہے اور وہ اس کے غضب اور قہر کے نیچے آجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسا سامان پیدا کرے کہ ہم میں استثنائی طور پر بھی کوئی ایسا بد قسمت 66 پیدا نہ ہو۔184 حضور انور کی یہ تقریر ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی۔اس کے بعد حضور نے انصار سے ان کا عہد دہرایا اور پھر اجتماعی دعا کرائی۔135- حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کی قبولیت دعا کا نشان خلفاءاس زمین پر خدا تعالیٰ کے نائب ہوتے ہیں اور ان کی زبان خدا کی زبان ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہیں قبولیت دعا کے بکثرت اعجازی نشانات کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔خلافت ثالثہ کے عہدِ مبارک میں بھی ہمیں ان نشانوں کا ایک غیر معمولی تسلسل نظر آتا ہے۔اسی سلسلہ میں ۱۹۶۸ء کا ایک