تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 624
تاریخ احمدیت۔جلد 24 602 سال 1968ء طور پر جماعت احمد یہ اور خلفائے احمد یہ دو مطالبے کرتے ہیں، اول القوی ہونا ، دوم الا مین ہونا۔اختتامی خطاب 119 حضور کا اختتامی خطاب نہایت ولولہ انگیز تھا جس نے خدام میں ایمان و معرفت کی ایک نئی روح پھونک دی۔حضور نے اپنی روح پرور تقریر کے آغاز میں خدائی بشارتوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ ہمیں ان کا وارث بننے کے لئے صحابہ نبوی کی طرح بشاشت قلبی کے ساتھ مصائب و مظالم کو برداشت کرنا ہوگا۔اس بنیادی نکتہ کو بیان کرنے کے بعد فرمایا:۔دنیا اس وقت بھی اسلام پر بڑی طاقت سے حملہ آور ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تلخیاں اور رنگ کی تھیں۔اب اور رنگ کی ہیں۔اب دنیا دجل کے ہتھیاروں کے ساتھ اسلام پر حملہ آور ہے۔ہزاروں میل دور ایذا پہنچانے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسے ایسے الزام لگاتے ہیں جن سے ہمارے دل چھلنی ہو جاتے ہیں اور آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں لیکن ہمیں گالی کے مقابل گالی کا حکم نہیں بلکہ ہر ایڈا کے مقابل صبر کی تعلیم ہے۔گالیاں سن کر دعائیں دینے کا حکم ہے اور دکھ پہنچانے والوں کو آرام دینے کی تعلیم ہے۔حضور نے خدام سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم اسی مقام پر قائم رہو تا خدا تعالیٰ اپنی بشارتوں کے وعدے پورے کرے۔فرمایا کہ میں تو دیکھ رہا ہوں کہ وہ وقت بڑا قریب ہے جب اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔جب ہر دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت قائم ہو جائے گی، جب تمام دہر یہ اور بت پرست اور بدھ مذہب اپنی بدیوں اور بت پرستیوں اور شرک کو چھوڑ کر خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے لگیں گے۔فرمایا کہ کامیابی بہر حال اسلام کو ہونی ہے ، غلبہ بہر حال اسلام کا ہے۔سارے معاند ناکام رہیں گے اور یہ غلبہ خدائی وعدہ کے مطابق جماعت احمدیہ کے ذریعہ ہو گا۔پھر وہ ہمارے بھائی جو ہم سے ناراض ہیں ہم سے گلے مل جائیں گے۔اس وقت ہم بھی خوش ہوں گے اور وہ بھی خوش ہوں گے۔فرمایا کہ دنیا جاہل اور کم علم ہے۔ہم اس سے ناراض نہیں کیونکہ ہم ظالم کے دشمن نہیں بلکہ اس کے ظلم کے دشمن ہیں“۔120