تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 623 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 623

تاریخ احمدیت۔جلد 24 601 سال 1968ء ہے اور ایمان کو صحیح تربیت دینے کے لئے قرآن کریم کا سمجھنا ضروری ہے۔خارجی طاقت اور قوت کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ مال کمانے میں بھی تقویٰ مدنظر ہو اور خرچ کرنے میں بھی تقویٰ کا خیال رہے۔مال حلال ہی نہ ہو بلکہ طیب بھی ہو۔اور اس امر کا فیصلہ کہ مال صرف صالح نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں پسندیدہ بھی ہو انسان نہیں کر سکتا۔پس اس غرض کیلئے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی ضرورت ہے۔اس کے بعد حضور نے الامین کے تینوں معنوں کی لطیف تشریح فرمائی۔اللہ تعالیٰ کی امانت کے ذکر میں فرمایا کہ اللہ کی امانت میں خیانت نہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جو حقوق اللہ کو پوری طرح ادا کرتے ہیں۔انسان کا فرض ہے کہ وہ عبودیت کے مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کرے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر بنیادی حق ہے۔دوسرا حق حقوق العباد کا ہے جس کے تحت پہلا حق نفس کا ہوتا ہے۔ہدایت کے اوپر اپنے نفس کو قائم رکھنا بنیادی حق ہے۔انسان کو کوشش کر کے یہ عادت ڈالنی چاہیئے کہ وہ ہوائے نفس کو جب چاہے دبا لے۔دوسرا حق اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانا ہے۔فرمایا کہ میرے نزدیک یہ بھی نفس کا حق ہے کیونکہ عزت نفس حاصل نہیں ہوسکتی جب تک انسان اخلاق کے اعلیٰ مقام پر کھڑا نہ ہو۔تیسرے جسم اور روح کو پاک صاف رکھنا ہے۔روح کی پاکیزگی میں خیالات کی پاکیزگی مقدم ہے۔آپس کی باہمی امانت کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ آپس کی امانتوں کو ادا کرنے کے لئے معاشرے اور شہریت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔معاملات میں اسلامی تعلیم کی باریکیوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیئے۔اگر اسلامی تعلیم پر عبور حاصل نہ ہو تو جنہیں علم حاصل ہے ان کی باتوں کو تسلیم کر کے دین العجائز اختیار کیا جائے۔رسول معہ کی امانت میں خیانت نہ کرنے کے ذکر میں فرمایا کہ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو قائم کیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں قرآنی اصول اپنائے۔پس اتباع سنت اور اجرائے سنت ضروری ہے۔جب تک احمدی نوجوان ان ہر سہ امانتوں کو اختیار نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کے انعامات اور فضلوں کا وارث نہیں بن سکتا جس کے وعدے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیے گئے ہیں۔آخر میں حضور نے اپنے خطاب کا مشخص بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ خدام الاحمدیہ سے بنیادی