تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 615
تاریخ احمدیت۔جلد 24 593 سال 1968ء ان سے ملنے کے بعد میں تو احمدیت کی طرف مائل ہو چکی ہوں تمہارے والد کا انتظار ہے تاہم اکٹھے ہی جماعت میں شامل ہوں۔۔۔۔۔۔بیرونی ملکوں کی جماعتیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کے لئے اور احمدیت کی خاطر ہر قسم کی قربانیاں پیش کر رہی ہیں۔جانی بھی اور مالی بھی۔اپنے اوقات کو بھی اور اپنی استعدادوں کو بھی۔مالی قربانیوں کا اندازہ آپ اس امر سے لگا سکتے ہیں کہ گو اس وقت انڈونیشیا کی اقتصادی حالت کچھ اچھی نہیں اور اس کا اثر تقریباً ہر شہری پر ہے لیکن جلسہ کے آخری دن میں نے جماعت میں تحریک کی کہ چند دن میں حضرت خلیفتہ المسیح تحریک جدید کے نئے سال کا آغاز فرما ئیں گے۔آپ لوگ سابقون میں شامل ہوں اور اعلان سے قبل ہی حضور کی خدمت میں اپنے وعدے بھجوانے شروع کر دیں۔اس طرح غیر ممالک میں سے سب سے آگے آنے کا آپ کو موقع مل جائے گا۔چنانچہ اس تحریک کے بعد صرف جاکر تہ شہر کی ہی جماعت کے وعدوں میں گزشتہ سال کی نسبت ایک سو اٹھائیس فیصد کی زیادتی ہوئی۔یعنی گزشتہ سال کی نسبت انہوں نے دو چند سے بھی زائد کے وعدے پیش کئے ہیں۔ایک دوست جن کا وعدہ گزشتہ سال ۱۵ ہزار روپیہ کا تھا امسال انہوں نے اپنا وعدہ ۶۰ ہزار کا کر دیا۔اسی طرح تقریباً سب دوستوں نے ہی اضافہ کیا ہے۔کوالا لمپور میں ہمارے ایک مخلص احمدی دوست محمد یوسف صاحب ہیں ۱۹۶۳ء میں جب میں پہلی مرتبہ ان علاقوں کے دورہ پر گیا تھا تو اس وقت انہوں نے مجھ سے اپنے مکان پر جو بھی بنیادوں تک ہی تعمیر ہوا تھا دعا کی خواہش کی اور میں نے دوستوں کے ساتھ مل کر وہاں دعا بھی کی تھی۔میں نے دعا کے بعد ان کو تحریک کی کہ گو مجھے یہ علم ہے کہ آپ کا اپنا ذاتی کوئی مکان نہیں اور آپ اپنی ذاتی ضروریات کے لئے یہ بنارہے ہیں لیکن اگر آپ یہ مکان سلسلہ کے لئے وقف کر دیں کیونکہ یہاں ابھی تک جماعت کا اپنا کوئی مشن ہاؤس نہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کےاموال میں بہت برکت ڈالے گا۔۱۹۶۶ء میں انہوں نے یہ مکان سلسلہ کے لئے وقف کر دیا اور مزید ایک بھاری رقم اس پر خرچ کر کے مسجد اور مشن ہاؤس میں تبدیل کر دیا جو اب ایک وسیع مسجد اور مشن ہاؤس کی شکل میں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کی اس قربانی کو ایسا نوازا کہ اب وہ کئی مکانوں کے مالک ہیں اور تجارت میں بے حد ترقی کی ہے۔108