تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 602
تاریخ احمدیت۔جلد 24 580 سال 1968ء حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا مجلس خدام الاحمدیہ کراچی سے خطاب یکم ستمبر ۱۹۶۸ء کوسید نا حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے احمد یہ ہال میں مجلس خدام الاحمدیہ کراچی سے ایک پُر معارف خطاب فرمایا جس میں حضور انور نے فرمایا کہ اس زمانہ میں اس عہد بیعت کی وجہ سے جو اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان میں اہم کام غلبہ اسلام کے لئے ہرممکن کوشش ہے۔ہمارا تعلق صرف آسمانی حکومت کے ساتھ ہے اور اس حکومت کو ہم دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔اسی لئے ہمارا اصول یہ ہے کہ ہم حکومت کے قانون کی پوری پابندی کریں اور کسی معمولی حکم کو بھی توڑنے والے نہ ہوں۔غلبہ اسلام کے لئے یہ اصول بہت اہم اور شاندار ہے اور اسی وجہ سے تمام دنیا میں احمدیت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔دوسری اہم بات جو اس عہد بیعت سے تعلق رکھتی ہے وہ قرآن کریم کے علوم سے واقفیت اور اس پر عمل کرنا ہے۔اصل زندگی وہی ہے جو قرآن کریم کی تابع اور اس کے عین مطابق ہو۔اس لئے قرآن کریم سے عشق و محبت کا تعلق ہونا چاہیئے۔اور ہماری سب زندگی اس کے مطابق بسر ہونی چاہیئے۔تیسرا امر جو عہد بیعت کی وجہ سے ہم پر عائد ہوتا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ ہے۔کیونکہ در حقیقت یہ کتب بھی قرآن کریم کے علوم کی تفسیر کے طور پر ہیں۔ان میں بہت عمدہ معارف بیان کئے گئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو قدرت ثانیہ کی بشارت دی۔جس سے مراد خلافت حقہ ہے۔اور اس خلافت کی حفاظت کے جو ہم اقرار کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنی عملی حالت میں تبدیل کریں گے اور اعمال صالحہ کو اختیار کرنے والے ہوں گے۔اسی طرح دوسرا امر یہ ہے کہ جو ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں ان کو ہم پوری تندہی کے ساتھ نباہنے والے ہوں کیونکہ جماعت کی ترقی خلافت کے ساتھ وابستہ ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت ہمارے سامنے موجود ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے والوں کو تدریجی ترقی عطا فرمائی۔چنانچہ ہمیں خلافت کی برکات حکمت عملی کے ساتھ پیش کرنی چاہئیں۔بعض وساوس و شبہات اور غلط نظریات کا ازالہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ اس میں شک نہیں کہ خلیفہ وقت عاجزی اور انکساری کے مقام پر ہوتا ہے اور معجب اور خود پسندی سے دور ہوتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خدا تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے