تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 597
تاریخ احمدیت۔جلد 24 575 سال 1968ء اس جماعت کی عورتیں پردہ کی پابندی کرتی ہیں گھر سے باہر برقعے کے بغیر کوئی عورت دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان باوجود پنجابی ہونے کے اس آبادی کے چھوٹے بڑے کی زبان اردو ہے اور شستہ اردو بولتے ہیں۔نے کا استعمال کافی تعداد میں اردو گرامر کے خلاف ہوتا ہے۔بایں ہمہ اردو میں مروجہ فارسی و عربی کے الفاظ گفتگو میں صحیح طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔قرآن مجید کی تفسیر اردو میں کئی جلدوں میں لکھی گئی ہے اور بیشتر تصنیفات اردو ہی میں ہیں۔جذبہ ایثار و قربانی یہ جذبہ اس جماعت میں درجہ کمال کو پہنچا ہوا ہے۔جب کبھی جماعت کو اپنی جماعت کے کسی شخص کی خدمات کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ حضرت امام صاحب کے حکم کی تعمیل میں فوراً اپنے نفع و نقصان کا خیال کئے بغیر جماعت کی خدمت کے لئے حاضر ہو جاتا ہے۔اس وقت ربوہ میں کئی ایسے افراد ہیں جو بڑی بڑی ملازمتیں چھوڑ کر جماعت کی خدمت کر رہے ہیں گو جماعت ان کی خدمت کا قلیل معاوضہ دیتی ہے۔کئی اشخاص ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جائدادیں جماعت کے حق میں ہبہ کر دیں۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے ایثار اور قربانی کی مثال نہ صرف قابلِ تعریف ہے بلکہ ہر فرقہ کے صاحب جاہ وثروت کے لئے قابل تقلید ہے۔ان کی جائداد کا اکثر حصہ جماعت کے حق میں وقف ہے اور آمدنی کا بھی بڑا حصہ جماعتی کاموں پر صرف ہو رہا ہے۔انہی پر موقوف نہیں ہے بلکہ جماعت کے بڑے سے بڑے آدمی پر لازم ہے کہ وہ کم از کم پندرہ روز مواضعات میں جا کر درس کلام مجید دے اور وہ بھی اپنے صرفہ پر۔جائے غور ہے کہ ہر سال اپنے کاروبار کو چھوڑ کر خدمت دین کرنا کس قدر بڑا ایثار و قربانی ہے۔کیا اس کی مثال کسی دوسرے فرقہ میں مل سکتی ہے۔دینی کارنامے اس جماعت نے اپنے ۲۳ محلوں میں ہر محلہ کے لئے ایک ایک مسجد تعمیر کروائی ہے اور ایک بہت شاندار مسجد جس کا نام مسجد اقصیٰ ہے سالانہ اجتماع کے میدان میں زیر تعمیر ہے۔جس کی تعمیر کے اخراجات ایک صاحب خیر نے اپنے ذمے لئے ہیں جس کا اندازہ پانچ چھ لاکھ روپیہ ہے اور اس نے اپنا نام پردہ اخفا میں رکھنے کی خواہش کی ہے۔ربوہ کے علاوہ بیرون ملک مثلاً امریکہ، انگلستان ، ڈنمارک،