تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 576
تاریخ احمدیت۔جلد 24 554 سال 1968ء اسلام ہی زندہ مذہب ہے جو ہر زمانہ میں شیریں پھل دیتا ہے۔اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کو تاریک پا کر اسلام کی ترقی کے لئے حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ہے۔آپ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے بہت سے نشانات دکھائے ہیں جن سے ان کے پیروؤں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی ذات پر نیا ایمان اور مستحکم یقین پیدا ہوا ہے۔حضرت مرزا صاحب نے بارہا مذاہب عالم کے لیڈروں کو دعوت دی کہ اپنے اپنے مذہب کی صداقت قبولیت دعا کے نشان سے ثابت کریں لیکن کسی کو حوصلہ نہ ہوا کہ اس چیلنج کو قبول کرے۔شر ما صاحب نے لکھا کہ دعا کے ذریعہ نشان نمائی کی یہ دعوت حضور علیہ السلام کے وصال کے بعد ختم نہیں ہوگئی بلکہ آپ کے بعد آپ کے خلفاء کی طرف سے متواتر یہ دعوت دی جاتی رہی ہے۔ابھی گذشتہ سال ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃالمسیح الثالث نے یورپ کے دورہ کے دوران پھر اسے دہرایا تھا۔آخر میں انہوں نے کہا کہ میں اسلام کا خادم اور اس ملک میں جماعت احمدیہ کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ اور آپ کے ساتھی اور دوسرے عیسائی راہنما عیسائیت کی نمائندگی کرتے ہوئے احمد یہ جماعت کے ساتھ دعاؤں کی قبولیت میں مقابلہ کر لیں۔آپ نے پادری صاحب کے سامنے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش کردہ یہ تجویز بھی رکھی کہ کچھ لا علاج مریض منتخب کر کے قرعہ اندازی کے ساتھ فریقین میں تقسیم کر لئے جائیں اور پھر ہر فریق اپنے حصہ کے مریضوں کی شفایابی کے لئے دعا کرے تا دنیا پر واضح ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کا فضل اور رحم اور اس کی تائید کس فریق کے ساتھ ہے۔اخبارات میں چیلنج کا ذکر مسٹر اورل را برٹش کو ایسے مقابلہ کی توقع نہ تھی۔جب انہیں یہ چیلنج ملا تو حیران ہوکر رہ گئے۔خدا کی شان ہے کہ ادھر جماعت نے چیلنج دیا اور ادھر یہاں کے پریس کا ( جواب تک ان کے پراپیگنڈا میں مصروف تھا) یکلخت رویہ بدلا اور ان کی اس مہم کے خلاف مضامین اور خطوط شائع ہونے لگے۔شرما صاحب کے خط کی نقول جو نہی اخبارات کو گئیں اخباری نمائندے مسٹر رابرٹس سے جواب لینے کے لئے نیوسٹینلے ہوٹل میں پہنچ لیکن انہوں نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرنے سے صاف انکار کر دیا۔نیروبی کے اخبار ”ڈیلی نیشن نے ان کی بوکھلاہٹ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:۔کینیا میں احمدیہ مسلم مشن کے انچارج مولانا عبدالکریم صاحب شرما نے ایک اثر انگیز خط نشان نمائی کے لئے دعویدار پادری اور ل رابرٹس کے نام لکھا تھا۔انہوں نے ایک نقل ہمیں بھی بھجوائی