تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 556
تاریخ احمدیت۔جلد 24 534 سال 1968ء اردو تراجم میں سے حضرت شاہ عبد القادر ، حضرت شاہ رفیع الدین، ڈپٹی نذیراحمد تفسیر صغیر مؤلفہ حضرت المصلح الموعود، تفسیر ماجدی، ترجمہ مولوی اشرف علی تھانوی، ترجمہ مولوی محمود الحسن صاحب، ترجمہ مولوی فرمان علی صاحب اور ترجمہ مولوی مقبول احمد صاحب وغیرہ موجود تھے۔اس کے ساتھ ہی شاہ ایران کا مطبوعہ خوبصورت قرآن مجید تھا اور فقیر وحید الدین صاحب کا مطبوعہ خوبصورت قرآن کا نسخہ موجود تھا۔نیز قرآن مجید کے پانچصد پرانے نسخے اور عہد مغلیہ کے بعض نادر قلمی نسخے بھی موجود تھے اور ان کے پیچھے دنیا کا رنگدار نقشہ آویزاں تھا جس میں ان تمام زبانوں کو دکھایا گیا تھا جن میں تراجم اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔ان تمام تراجم کو یکجائی طور پر دیکھ کر جناب ممتاز حسن صاحب نے بے اختیار اس امر کا اظہار کیا کہ یہی فرقان مجید تمام مسلمانوں کو اکٹھا کر سکتا ہے اور جماعت نے یہ کام کر کے بہت عمدہ نمونہ پیش کیا ہے۔اس کے بعد معزز مہمان پھر ہال میں داخل ہوئے جہاں سندھی زبان کا پرانا تر جمہ تھا جس کے ساتھ ہی فارسی ترجمہ بھی تھا۔اس کے بعد ہندی ترجمہ کا پارہ تھا جو انہی دنوں قادیان سے شائع ہوا تھا۔اس کے ساتھ ہی چینی، جاپانی اور روسی تراجم تھے۔اس کے بعد گجراتی زبان کے تین مختلف تراجم تھے۔اس کے ساتھ افریقہ کی تین مشہور زبانوں یعنی سواحیلی ، یوروبا اور یوگنڈی تراجم تھے۔یہ تراجم مہمانوں کے لئے بڑی دلکشی کا باعث ہوئے۔اس کے بعد شاعر آغا قزلباش اور سیماب اکبر آبادی کے منظوم تراجم کے دو پارے تھے۔اس کے ساتھ ہی وہ قرآن مجید تھا جو میں اوراق میں ہے اور اس کی ہر ابتدائی سطر حرف واو سے شروع ہوتی ہے۔یہ قرآن مجید کلکتہ سے شائع ہوا تھا اور سٹیٹ بنک کی لائبریری سے لیا گیا تھا۔اس کے بعد حضرت سردار محمد یوسف صاحب کا گورمکھی ترجمہ تھا جو قادیان سے شائع ہوا تھا۔آخر میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف من الرحمن کا ایک اقتباس چارٹ پر مندرج تھا اور اس کے نیچے مکرم شیخ محمد احمد صاحب مظہر کی عربی زبان کے اُم الالسنہ ہونے کے متعلق دو کتب تھیں۔یہ دلچسپ انکشاف کتب بھی مہمانوں کے لئے گہری دلچسپی کا باعث ہوا۔اس کے علاوہ قرآن مجید کے متعلق خوبصورت معلوماتی چارٹس اور کچھ فوٹو (جن میں احمدی مجاہدین بیرونی ممالک کی معزز شخصیتوں کو قرآن مجید پیش کر رہے ہیں ) ہال کی رونق میں اضافہ کر رہے تھے۔معزز مہمان خصوصی تراجم کی اس قدر کثرت کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور وزیٹر بک میں تحریر فرمایا:۔