تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 548
تاریخ احمدیت۔جلد 24 526 سال 1968ء "Let there be no compulsion in religion"۔"Freedom of thought and conscience could not have been پی۔ایل۔ڈی۔۱۹۶۹ ء لا ہو ر ۲۸۹ guaranteed in clearer terms"۔با اجلاس مسٹر جسٹس محمدگل و مسٹر جسٹس کرم الہی چوہان بمقدمه آغا عبدالکریم شورش کشمیری اور دیگر درخواست دهندگان بنام صوبه مغربی پاکستان۔اس مقدمہ میں یہ امر واضح طور پر زیر تنقیح تھا کہ آیا احمدی مسلمان ہیں۔اس تنقیح پر عدالت موصوف کا فیصلہ حسب ذیل ہے:۔) سائل کے وکیل کی بحث کا تمام تر انحصار اس بات پر تھا کہ احمدی مسلمانوں کا ایک فرقہ نہیں ہیں اور یہ کہ دستور پاکستان سائل کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اس بات کا اظہار کر سکے لیکن فاضل وکیل نے اس امر کو نظر انداز کر دیا ہے کہ احمدیوں کو بحیثیت پاکستان کے شہری ہونے کے دستور پاکستان کی رُو سے اُسی قسم کی آزادی حاصل ہے کہ وہ اس بات کا اقرار و اعلان کریں کہ وہ اسلام کے دائرہ کے اندر ہیں۔یہ امر ہمارے نزدیک بعید از فہم ہے کہ سائل دوسروں کو وہ حق دینے سے انکار کرے جس حق کا وہ خود کو تحق قرار دیتا ہے۔یقیناً احمدیوں کو خوفزدہ کر کے ایسا نہیں کیا جاسکتا۔اصل سوال یہ ہے کہ کس حد تک سائل اور اس کے دوسرے ہم خیال لوگ قانون کی رو سے احمدیوں کو اس امر کے اظہار سے روک سکتے ہیں کہ احمدی اسلام کے ایسے ہی اچھے پیرو ہیں جیسا کہ کوئی دوسرا شخص جو خود کو مسلمان کہتا ہو خواہ احمدیوں کو اسلام کے دوسرے فرقوں سے بعض مسائل میں اختلافات ہوں۔ہمارے لیے معاملہ کے اس پہلو کو زیر غور لانا لازمی ہے کیونکہ سائل کے فاضل وکیل نے اپنی بحث کے دوران میں منیر کی تحقیقاتی رپورٹ بابت فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کا حوالہ دیا ہے جس میں احمدیوں اور مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کے درمیان اختلافی مسائل کو نمایاں کیا گیا ہے اور بعض واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔جن میں احمدی کہلانے والے لوگوں پر مرتد ہونے کا الزام لگایا گیا تھا اور بعض کو قتل کیا گیا تھا۔مثل پر دو فیصلہ جات لائے گئے ہیں جن میں سے ایک فیصلہ سابق پنجاب کی ایک ماتحت عدالت کا ہے اور دوسرا فیصلہ سابق ریاست بہاولپور کی ایک ضلعی عدالت کا ہے۔ان فیصلہ