تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 543 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 543

تاریخ احمدیت۔جلد 24 521 سال 1968ء اندرونی کشمکش سے مغلوب ہو کر انہوں نے قلم ہاتھ سے رکھ دیا۔کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بے قراری میں ٹہلنا اور احمدی مناظر کو کوسنا اور گالیاں دینا شروع کر دیا۔ہم نے ہرلمحہ تحمل سے کام لیا۔اور بخدا ان کی گالیوں کا کچھ بھی جواب نہ دیا۔اس پر پادری صاحب نے جل بھس کر ہمارے دل و جان سے پیارے آقا علی پر حملے شروع کئے۔پھر بھی ہم نے صبر کیا۔تا کہ وہ اس بات کی آڑ لے کر فرار کا راستہ اختیار نہ کریں لیکن پادری صاحب تو بھاگنے کی پوری طرح ٹھان چکے تھے۔(اور عجیب بات ہے کہ دوسرے دن کے مناظرہ کے اختتام پر بہت سے لوگوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ غالبا پادری صاحب کل میدان مناظرہ میں نہیں آئیں گے ) پادری صاحب نے دشنام دہی کو کافی نہ سمجھ کر ہاتھا پائی کی نوبت پہنچادی۔لیکن الحمد للہ کہ ہم ہر طرح پر سکون رہے۔اور پادری صاحب کو نہایت ملاطفت سے اصل کام جاری رکھنے کی طرف توجہ دلائی۔لیکن پادری صاحب کسی طرح نہ مانے۔اور صاف کہہ دیا کہ میں اب کسی صورت میں مناظرہ نہیں کروں گا اور چلنے کو تیار ہو گئے۔احمدی مناظر نے عیسائی نگران اور دوسرے حاضر الوقت دو تین عیسائی نمائندوں سے کہا کہ کم از کم آج شام کو یہ پرچے سنا تو دیئے جائیں۔کیونکہ لوگ دور دور سے خرچ کر کے سماعت کے لئے آتے ہیں۔پہلے تو پادری صاحب سنانے پر بھی راضی نہ ہوتے تھے لیکن بالآخر جب احمدی مناظر نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ پادری صاحب آئیں نہ آئیں میں تو شام کے اجلاس میں آؤں گا۔اور اپنے پرچے ضرور سناؤں گا۔تب پادری صاحب رات کے پروگرام میں آنے پر راضی ہوئے۔اس کے بعد سارے معاہدے ساری شرائط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مناظرہ درمیان ہی میں چھوڑ کر چلے گئے۔احمدی مناظر نے اپنا سارا وقت لیا اور وہیں بیٹھ کر پادری صاحب کے پرچہ کا جواب لکھ دیا۔رات کے ساڑھے سات بجے حسب پروگرام کا رروائی منعقد ہوئی۔اور فریقین نے اپنے اپنے پرچے سنائے لیکن احمدی مناظر جب اپنا آخری پرچہ سنانے لگے تو پادری صاحب جو شروع اجلاس سے ہی گھبراہٹ اور اضطراب کا مجسمہ تھے آپے سے باہر ہو گئے اور کہا کہ وہ احمدی مناظر کو آخری پر چہ نہیں سنانے دیں گے۔کیونکہ احمدی مناظر نے یہ پرچہ میری عدم موجودگی میں لکھا ہے۔ان کو بہتیرا کہا گیا کہ اگر آپ خلاف شرائط اور دیانتداری سے ہٹ کر میدانِ مناظرہ سے چلے گئے تو اس میں آپ کا اپنا قصور ہے۔احمدی مناظر کو کیوں اس کے حق سے محروم رکھتے ہیں۔حتی کہ اس عیسائی نے بھی جس نے آخری پر چہ پر دستخط کرنے تھے، کہا کہ احمدی مناظر کو ان کا حق ملنا چاہیئے۔چند منٹ کی بات ہے۔