تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 542 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 542

تاریخ احمدیت۔جلد 24 520 سال 1968ء کی توفیق بلیغ احمدی مناظر کو اللہ تعالیٰ نے بخشی اس کی زبان میں برکت عطا ہوئی اور آواز میں شوکت دی۔جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پُر شوکت عبارت پڑھتے تو حاضرین پر ایک کیف طاری ہو جاتا۔بہر حال بفضلہ تعالیٰ دوسرے دن کے مباحثہ میں بھی پادری صاحب کا سارا طلسم ٹوٹ گیا۔اور حاضرین پر ان کے علم کا جو غلط اثر تھا وہ بالکل زائل ہو گیا۔اس اثر کو زائل کرنے کے لئے پادری صاحب نے بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے۔شرائط کے سراسر خلاف، کہ پر چہ سناتے ہوئے کسی کو زبانی ایک لفظ بھی کہنے کی اجازت نہ ہوگی۔پادری صاحب نے احمدی مناظر کی تقریر میں شور مچانا شروع کر دیا۔جس پر دونوں طرف کے نگرانوں کو انہیں ڈانٹ کر چپ کرانا پڑا۔اختتام مناظرہ پر غیر مسلم حاضرین نے بھی اسلام اور احمدیت کے متعلق بہت اچھا اثر لینے کا اقرار کیا اور بوقتِ رخصت بلا تفریق مذہب و ملت سب احمدی مناظر سے ہاتھ ملانے کے لئے ٹوٹ پڑتے تھے۔اس ہجوم میں جب غیر مسلم عورتوں نے بھی خراج تحسین کے طور پر احمدی مناظر مولانا نور الحق صاحب انور سے مصافحہ کی کوشش کی تو برادرم موصوف نے نہایت ملاطفت اور محبت سے یہ مسئلہ سمجھایا کہ اسلام میں عورتوں سے مصافحہ کی اجازت نہیں اور با اخلاق طور پر ہاتھ اٹھا کر ان کے سلام کا جواب دیا۔۸ مئی ۱۹۶۸ء کو حسب معمول مباحثہ کا تیسرا دن شروع ہوا۔اس دن کے لئے مضمون نمبرا کیا مسیح ناصری علیہ السلام صلیب پر فوت ہو گئے۔نمبر ۲ کیا قرآن شریف الہامی کتاب ہے مقرر تھے۔قبل از دو پہر چار گھنٹے فریقین اطمینان سے پرچے لکھتے رہے۔گو گذشتہ دن کی شکست کا اثر پادری صاحب کو مضطرب کئے ہوئے تھا۔جس کا اظہار ان کی حرکات و سکنات سے نمایاں ہورہا تھا۔لیکن قبل از دو پہر کے آخری پر چہ میں جب احمدی مناظر نے قرآن شریف سے یہ نا قابلِ تردید ثبوت پیش کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب کی لعنتی موت کی بجائے اللہ تعالیٰ کے وعدہ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ الى یعنی طبعی معجزانہ موت کے وعدہ الہی کے مطابق کشمیر میں فوت ہوئے ، نیز ہمارے مناظر نے بڑی تحدی سے لکھا کہ:۔خدا تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق عبد الحق صاحب کو دعوت دیتا ہوں وہ اگر سچے ہیں تو اپنے ساتھیوں سمیت میدان مباہلہ میں آئیں اسے پڑھتے ہی پادری صاحب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔میں خود عینی گواہ ہوں اور اس نظارہ کو کبھی نہیں بھول سکتا۔کہ ان الفاظ کے پڑھتے ہی پادری صاحب کے چہرہ پر موت کی سی زردی چھائی معلوم ہونے لگی۔اور ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔بالآخر