تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 512
تاریخ احمدیت۔جلد 24 490 سال 1968ء دعوت خاص: اسی دن شام کو وزیر اعظم نے ملک کے بہترین باغ Pamplemousses Garden میں دعوت دی جس میں کم و بیش پانچ ہزار ملکی اور غیر ملکی معززین شامل ہوئے۔یہ نظارہ بھی خوب تھا۔جس میں احمدی نمائندگان کو تبلیغ کا خوب موقع ملا۔۱۳ مارچ کو اردو اکیڈیمی ( جو مکرم مولانا اسماعیل منیر صاحب کی تحریک پر چند مقامی احباب نے قائم کی تھی ) نے ایک مجلس مشاعرہ منعقد کی جس میں عوام کے علاوہ پاکستان کے ہائی کمشنر مکرمی مرزا رشید احمد صاحب بھی شامل ہوئے۔مکرم مولوی اسماعیل منیر صاحب نے بھی اردو کی اہمیت پر تقریر کی۔مکرم مولانا صاحب کو اسی دن شام کو ہندوستان کے وزیر برائے امور خارجہ مسٹر بھگت صاحب کی دعوت استقبالیہ میں شمولیت کا موقع ملا۔جہاں مقامی اور غیر ملکی افسران اور عوام سے ملاقاتوں کا بھی موقع ملا۔روس کے نمائندے سے بھی بات چیت ہوئی۔مکرم مولانا صاحب نے اسے بتایا کہ احمدیوں کو روس سے کیوں خاص محبت ہے؟ اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں ”زار کے متعلق پوری ہو چکی ہیں اور اب روس میں احمدیت کی ترقی کی پیش خبری بھی جلد ہی پوری ہونے والی ہے۔آپ کی مقامی محکمہ موسمیات کے یورپین آفیسر انچارج سے عید کے چاند کی رؤیت کے بارہ میں مفید اور دلچسپ گفتگو ہوئی۔۱۴ مارچ کو بیرونی نمائندگان سے ملنے کیلئے احمد یہ وفد ان کی رہائش گاہ پر حاضر ہوا اور ہر ایک کی میز پر اسلامی اصول کی فلاسفی وغیر ہ احمدیہ لٹریچر پڑا ہوا تھا۔انہیں جب پتہ چلا کہ یہ لٹریچر اس احمدیہ وفد کے ہی مشن کی طرف سے تحفہ پیش کیا گیا ہے تو وہ اور بھی خوش ہوئے۔( جماعت نے ایک سو خوبصورت پارسل بنا کر ہر مہمان کو اس کی رہائش گاہ پر پہنچا دیا تھا۔ہر پارسل میں احمد یہ اخبار Le Message کا آزادی نمبر ، خاص قرآن نمبر، اسلامی اصول کی فلاسفی اور حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کا لنڈن کا خطاب شامل تھے )۔اسی دن شام کو الوداع کہنے کے لئے جماعتی وفد ہوائی اڈہ پر بھی موجود تھا۔بیرونی نمائندگان اس سے بہت ہی متاثر ہوئے۔ان میں سے اکثر نے برملا اعتراف کیا کہ احمدیہ مسلم مشن نہ صرف ماریشس میں خوب کام کر رہا ہے بلکہ ان کے ملکوں میں بھی اسی طرح کام کر رہا ہے اور ملکی خدمات بجالا رہا ہے مثلاً نائیجیریا، گھانا، تنزانیہ، سیلون، نجی، گی آنا، ٹرینیڈاڈ، پاکستان، انڈیا۔علاوہ ازیں روس، چین، جاپان، انگلستان، کینیا، ملاوی، زیمبیا، گنی ، سوازی لینڈ ، چیکوسلواکیہ وغیرہ کے نمائندگان سے بھی تفصیلی